Saturday, April 11, 2026
ہومٹاپ سٹوریاسلام آباد مذکرات جن کی کامیابی جے ڈی وینس اور قالیباف کو تخت دلوا سکتی ہے

اسلام آباد مذکرات جن کی کامیابی جے ڈی وینس اور قالیباف کو تخت دلوا سکتی ہے

رپورٹ:اویس لطیف

1 5

پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بند ی کے اگلے مرحلے میں انتہائی اہم مذاکرات اسلام آباد کی میزبانی میں شروع ہو رہے ہیں ،مذاکرات میں شرکت کیلئے فریقین کے نمائندے اسلام آباد آ رہے ہیں جہاں ایک طرف مشرق وسطی کا نیا آرڈر طے ہوگا وہیں مذاکراتی ٹیموں کے سربراہان کا سیاسی مستقبل بھی طے ہوگا۔مذاکرات کیلئے امریکی ٹیم کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس یا جیمز ڈیوڈ وینس کریں گے جبکہ ایرانی ٹیم کی قیادت پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے۔

جے ڈی وینس ٹرمپ کے شدید ناقد سے نائب صدارت تک

41سالہ امریکی نائب صدرجے ڈ ی وینس 2 اگست 1984 کو مڈل ٹان، اوہائیو میں پیدا ہوئے ،ان کی والدہ بیورلی کیرول ایکنز ہیں، اور والد ڈونلڈ رے بومن تھے ،وینس چھوٹے بچے تھے تو ان کی طلاق ہوگئی۔ وانس نے اپنی کتاب Hillbilly Elegy میں لکھا ہے کہ وہ اسکاٹس-آئرش نسل سے ہیں ۔جے ڈی کی ابتدائی زندگی ہنگامہ خیز تھی جہاں ان کی پروش ان کی والدہ کے تیسرے شوہر باب ہیمل نے کی۔ اس کا بچپن غربت اور بدسلوکی سے گزرا مگر پر عزم جے ڈی نے مستقبل میں وہ کامیابیاں حاصل کیں جن کا ابتدائی طور پر امکان نہ ہونے کے برابر تھا۔3 جنوری 2023 کو جے ڈی وینس نے کانگریس کے رکن کے طور پر سینیٹ میں حلف اٹھایا۔ وانس 3 جنوری 2023 سے 3 جنوری 2025 تک اوہائیو کے جونیئر سینیٹر تھے۔ جولائی 2024 کے وسط کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ وانس نے سینیٹ کی 45 تقاریر کیں اور 57 قانون سازی بلوں کو سپانسر کیا، جن میں سے کوئی بھی سینیٹ سے منظور نہیں ہوا۔ وینس نے 288 بلوں کو بھی تعاون کیا تھا، جن میں سے دو سینیٹ اور ہا ئوس دونوں پاس ہوئے لیکن صدر بائیڈن نے اسے ویٹو کر دیا۔

download

جے ڈی کے ہاتھ مارکو روبیو سمیت دیگر ری پبلکنز حریفوں کو بچھاڑنے کا نادر موقع

سیاسی کیریئر کے ابتداء میں جے ڈی وینس صدر ٹرمپ کے انتہائی مخالف سمجھے جاتے تھے مگر حالات نے یکدم پلٹا کھایا اور وہ ان کے نائب کے طور پر کرسی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔دنیا کے طاقتور ترین ملک کا نائب صدر ہونا بھی کوئی معمولی بات نہیں مگر جے ڈی وینس کی نظریں یقینا اگلے انتخابات میں امریکی صدارت پر ہوں گی کیوں کہ صدر ٹرمپ دو بار یہ عہدہ حاصل کرنے کے بعد آئندہ کیلئے میدان میں موجود نہیں ہوں گے،اگر چہ امریکی صدر دبے لفظوں میں عندیہ دے چکے ہیں کہ جے ڈی ان کے جانشین ہوں گے مگر یہ اتنا بھی آسان سفر نہیں ہے۔انہیں موجودہ سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو سمیت ری پبلکن لائن اپ میں کچھ مزید حریفوں کا سامنا کرنا ہوگا مگر اگر اسلام آباد میں سجنے والا مذاکراتی ملیہ کامیاب ہو جاتا ہے تو پھر جے ڈی کے ہاتھ وہ گیڈر سنگھی لگ جائے گی جو انہیں کیپیٹل ہل میں سب سے بڑا عہدہ دلوا سکتی ہے۔

64سالہ سابق فوجی قالیباف ایران کے سیاسی لینڈ سکیپ پر موجود نمایاں نام

اسلام آباد کی میزبانی اور پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں ایرانی ٹیم کی قیادت کیلئے پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر اور موجودہ سپیکر محمد باقر قالیباف کانام موجودہ جنگ میں بڑھ چھڑھ کرسامنے آیا کیوں کہ ان سے اوپر اورآپس پاس موجود متعدد نام اسرائیلی حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔اگر دو ہفتے قبل علی لاریجانی شہید نہ ہوتے تو یقینا اس وقت اسلام آباد مذاکرات کیلئے ان سے بہتر نام ایران کے پاس موجود نہیں تھا۔بی بی سی اپنی حالیہ ایک رپورٹ میںقالیباف کو پاسداران انقلاب کا سیاسی چہرہ قرار دے چکی ہے۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بطور سپیکر ایرانی پارلیمنٹ جہاں وہ سیاسی نظام میں مضبوط جڑیں رکھتے ہیں وہیں ملکی فیصلوں پر انتہائی حد تک حاوی پاسداران انقلاب میں بھی ان کی بھرپور رسائی موجود ہے۔

سوشل میڈیا پر صدر ٹرمپ کو موثر جواب دینے والے قالیباف

mohammed baqer qalibaf

ایران کے خلاف امریکی جنگ کے دوران اور بالخصوص نمایاں قیادت کی شہادت کے بعد قالیباف نے مسلسل سوشل میڈیا کے ذریعے تابڑ توڑ حملے کرنے والے امریکی صدر کا مناسب حد تک مقابلہ کیا ہے۔حالیہ دنوں میں انہوں نے کئی بار موثر موجودگی کے ذریعے ایسے بیانات جاری کیے ہیں جو جنگ کے دوران نازک مراحل پر ایرانی کی پالیسی کی طرف اشارہ کرتے رہے ہیں۔اسلام آباد مذاکرات کے دوران ایرانی موقف قالیباف پیش کریں گے اور مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں وہ اپنے ملک میں سیاسی سطح پر نمایاں برتری حاصل کر سکتے ہیں جو شاید آگے چل کر انہیں ایران کا اقتدار اعلی بھی دلوا دے کیو ں کہ قالیباف ابھی 64سال کے ہیں اور ان کے پاس بہت سا سیاسی وقت موجود ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔