Monday, March 30, 2026
ہومبریکنگ نیوزصوبوں کی مخالفت پر حکومت کا اسمارٹ لاک ڈان نہ لگانے کا فیصلہ

صوبوں کی مخالفت پر حکومت کا اسمارٹ لاک ڈان نہ لگانے کا فیصلہ

اسلام آباد (آئی پی ایس )صدر مملکت کی زیر صدارت اہم اجلاس میں حکومت نے صوبوں کی مخالفت پر ملک میں اسمارٹ لاک ڈان نافذ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایوان صدر میں صدر آصف علی زرداری سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، سابق وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں قومی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا جبکہ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال اور اس کے پاکستان پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

شرکا نے ملک کو درپیش معاشی، توانائی اور سکیورٹی چیلنجز پر مشاورت کی اور ان سے نمٹنے کے لیے جامع حکمتِ عملی پر اتفاق کیا۔ملاقات میں قومی سطح پر مربوط حکمتِ عملی اختیار کی جائے ادارہ جاتی سطح پر آہنگی کو یقینی بنانے پرزور دیا۔اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی نے توانائی بچت اقدامات کے تحت ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈان نافذ کرنے کی مخالفت کی جس پر اجلاس میں سمارٹ لاک ڈاون نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کی تجاویز کو بارہا مسترد کیا اور کفایت شعاری کے اقدامات سے بچائی گئی رقم عوامی ریلیف پر خرچ کی جا رہی ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ حکومت نے اخراجات میں کمی، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی اور سرکاری گاڑیوں کے 60 فیصد استعمال کو فوری طور پر روکنے جیسے اقدامات کیے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ مشکل وقت میں معاشی طور پر کمزور طبقات کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔صدر مملکت نے مربوط فیصلہ سازی کو یقینی بنانے اور معیشت، توانائی، غذائی تحفظ اور سکیورٹی کے شعبوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی ہدایت کی۔اعلامیے کے مطابق صدر مملکت نے ایندھن کے کم استعمال، پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ اور مشترکہ سفری سہولیات کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کیلئے عوامی آگاہی مہم چلانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ہدایت کی ہے کہ تیل و گیس کی فراہمی پر دبا، توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور خطے کی بدلتی صورتحال کے پیشِ نظر عوام، خصوصا عام آدمی پر مہنگائی کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں اور خاص طور پر اشیائے ضروریہ اور بنیادی خدمات کے حوالے سے اقدامات کیے جائیں۔مشاورتی اجلاس میں وزیرِ اعظم شہباز شریف، چاروں صوبوں کی قیادت، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی قیادت بھی شریک ہوئی۔

اس کے علاوہ مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ بھی شریک تھے۔

وزیرِ اعلی پنجاب مریم نواز شریف، وزیرِ اعلی سندھ مراد علی شاہ، وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی، وزیرِ اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی اجلاس میں شریک ہوئے جبکہ گلگت بلتستان کے نگراں وزیرِ اعلی یار محمد، وزیرِ اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور بھی اجلاس میں شریک تھے۔چاروں صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی جانب سے مہنگائی کے دبا کو کنٹرول کرنے، اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنانے اور عوام پر اثرات کم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی۔

اجلاس میں خطے کی مجموعی صورتحال اور اس کے پاکستان کی سکیورٹی، معیشت اور غذائی تحفظ پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا جبکہ بریفنگ میں بتایا گیا کہ عالمی بحران کے باوجود بروقت فیصلوں کے باعث ایندھن کی فراہمی میں کوئی تعطل نہیں آیا۔بریفنگ میں شرکا کو آگاہ کیا گیا کہ ملک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے وافر ذخائر موجود ہیں۔اس کے علاوہ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اجلاس کو حکومت کی فعال سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا اور ترکی، سعودی عرب اور مصر کی قیادت سے حالیہ رابطے اور تنازع میں شامل ممالک کے رہنماں سے بات چیت بریف کیا۔نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے اپنے آئندہ دورہ بیجنگ کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔