Saturday, March 28, 2026
ہومبریکنگ نیوزکفایت شعاری اپنائیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں، وزیراعظم کی قوم سے اپیل

کفایت شعاری اپنائیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں، وزیراعظم کی قوم سے اپیل

اسلام آباد (آئی پی ایس )وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں عوام پر زور دیا ہے کہ وہ موجودہ معاشی حالات کے پیش نظر کفایت شعاری کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں، جبکہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے اربوں روپے کا بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ پاکستان ایک طرف اپنے قومی مفادات کے تحفظ اور عوام کو عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات سے بچانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب خطے میں امن کے قیام کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان موجودہ صورتحال میں دو اہم محاذوں پر سرگرم ہے۔ ایک طرف حکومت عوام کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے اثرات سے بچانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب سفارتی سطح پر جنگ کے خاتمے کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور ممکنہ تباہ کن جنگ کو روکنے کے لیے دن رات متحرک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برادر اسلامی ممالک اور پورے خطے کو اس جنگ کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے پاکستان سنجیدہ اور مخلصانہ سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اجتماعی مشاورت، دانشمندی اور باہمی تعاون کے ذریعے ہی پائیدار امن کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی یہ سفارتی کوششیں محض بین الاقوامی ذمہ داری نہیں بلکہ اللہ تعالی کی رضا اور امت مسلمہ کے بہترین مفاد کے لیے کی جا رہی ہیں۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ مسلمان ایک خدا، ایک رسول ۖ اور ایک قرآن پر ایمان رکھتے ہیں، اس لیے اتحاد اور یکجہتی کے ذریعے ہی چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ وہ اس نازک وقت میں اتحاد، صبر اور یکجہتی کا مظاہرہ کرے تاکہ پاکستان خطے میں امن کے قیام میں اپنا مثر کردار ادا کر سکے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قوم سے خطاب کے تسلسل میں کہا ہے کہ حکومت ایک جانب عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے سرگرم ہے تو دوسری جانب عوام کو معاشی دبا سے بچانے کے لیے مشکل مگر ضروری فیصلے کیے جا رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ چاہے کوئی بھی کسی مسلک یا مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا ہو، بطور مسلمان سب کے دل میں امن کی خواہش مشترک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی تناظر میں ایران اور خلیجی ممالک کے سربراہان سے متعدد بار تفصیلی بات چیت کی گئی ہے تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے اور خطے میں امن کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم پوری محنت اور خلوص کے ساتھ سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں، جبکہ سید عاصم منیر بھی اس عمل کی کامیابی کے لیے نہایت اہم اور کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے قوم سے اپیل کی کہ وہ ان کاوشوں کی کامیابی کے لیے اللہ تعالی کے حضور دعا کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ دنیا اس وقت ایک غیر معمولی اور مشکل صورتحال سے گزر رہی ہے جہاں بڑی معیشتیں بھی شدید دبا کا شکار ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک، جو وسائل سے مالا مال ہیں، وہ بھی معاشی بحران کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے اثرات دیگر ممالک پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے پہلے ہی تیاری شروع کر رکھی تھی اور فوری ایسے فیصلے کیے گئے جو بظاہر مشکل تھے مگر ناگزیر تھے۔ ان اقدامات کا مقصد عوام کو معاشی مشکلات سے زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنا ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ ترقیاتی منصوبوں کے بجٹ میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی اور سادگی و کفایت شعاری مہم کے ذریعے بچائی گئی رقوم عوام پر معاشی دبا کم کرنے کے لیے وقف کر دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر ممکن حد تک وسائل عوام کی فلاح کے لیے استعمال کر رہی ہے تاکہ مشکل وقت میں شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔وزیراعظم نے قوم سے اپیل کی کہ وہ صبر، اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور ملک کی بہتری اور امن کے قیام کے لیے اجتماعی کوششوں کا حصہ بنیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت عوام کو درپیش مشکلات کم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قوم سے خطاب کے تسلسل میں کہا ہے کہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کی تجاویز مسترد کر دی ہیں اور اربوں روپے کا مالی بوجھ خود برداشت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ عوام جب اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلواتے ہیں تو اس کے پیچھے حکومت کی کفایت شعاری اور ذمہ دارانہ پالیسیوں کا کردار ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ ہفتے کے لیے پٹرول کی قیمت میں 95 روپے فی لیٹر اور ڈیزل میں 203 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم عوامی مشکلات کے پیش نظر اسے مسترد کر دیا گیا۔

وزیراعظم نے اعلان کیا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں حکومت مزید 56 ارب روپے کا بوجھ خود برداشت کرے گی تاکہ عوام کو اضافی مالی دبا سے بچایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی کے مطابق پاکستان میں پٹرول کی قیمت 544 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 790 روپے فی لیٹر ہونی چاہیے تھی، لیکن حکومت عوام کو پٹرول 322 روپے اور ڈیزل 335 روپے فی لیٹر فراہم کر رہی ہے۔وزیراعظم نے بتایا کہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران حکومت مجموعی طور پر 125 ارب روپے کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا چکی ہے تاکہ عوام کو مہنگائی کے اثرات سے بچایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار محض اعداد نہیں بلکہ عوامی ریلیف کے لیے حکومت کی سنجیدہ کوششوں کا عملی اظہار ہیں۔ وزیراعظم نے یقین دلایا کہ حکومت ہر ممکن حد تک عوام کو مشکلات سے بچانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی تاکہ کسی بھی شہری پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قوم سے خطاب کے تسلسل میں کہا ہے کہ حکومت نے عوامی ریلیف کو ترجیح دیتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کے بجٹ کی قربانی دی، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ پوری قوم کفایت شعاری اور ذمہ داری کا عملی مظاہرہ کرے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جو خطیر رقم عوام کو ریلیف دینے پر خرچ کی جا رہی ہے، وہ ملک کے بڑے ترقیاتی منصوبوں پر بھی لگ سکتی تھی، لیکن موجودہ حالات میں عوام کا معاشی تحفظ حکومت کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے۔انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ وہ اپنی روزمرہ زندگی میں فوری اور عملی تبدیلیاں لائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ سفر سے پہلے یہ سوچنا ضروری ہے کہ آیا یہ واقعی ضروری ہے یا نہیں، اور ہر بار گاڑی یا موٹر سائیکل استعمال کرنے سے گریز کیا جائے۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ کفایت شعاری اب کوئی اختیاری عمل نہیں بلکہ ایک مشترکہ قومی ذمہ داری بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پٹرول کی قیمتیں دوگنا ہو چکی ہیں اور کئی ممالک میں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ حکومتیں بھی بے بس نظر آ رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود بروقت اقدامات کے ذریعے مہنگائی کے طوفان کو عوام تک پہنچنے سے روکے رکھا ہے، تاہم یہ کام صرف حکومت اکیلے نہیں کر سکتی۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ اس مشکل وقت میں عوام کو بھی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔

وزیراعظم نے اعلان کیا کہ حکومت جلد ہی ایک جامع منصوبہ پیش کرے گی، جس کا مقصد موجودہ چیلنجز سے نمٹنا ہے، اور اس کے لیے عوام کے بھرپور تعاون کی ضرورت ہوگی۔ خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالی کے فضل اور قوم کے اتحاد و تعاون سے پاکستان اس مشکل وقت سے سرخرو ہو کر نکلے گا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی پاکستان کو ہمیشہ امن، عزت اور وقار عطا فرمائے اور ملک کو کامیابیوں سے ہمکنار کرے۔

وزیراعظم نے پرعزم انداز میں کہا کہ قوم کے حوصلے بلند ہیں اور مشترکہ جدوجہد کے ذریعے ہر مشکل کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے وطن سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہر چیلنج سے کامیابی کے ساتھ باہر نکلے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔