دوشنبے (آئی پی ایس )پانی زندگی کا بنیادی ذریعہ ہے، جو انسانوں، ماحولیاتی نظاموں اور پوری دنیا کو آپس میں جوڑتا ہے۔ تاہم، دنیا اس وقت پانی کے بڑھتے ہوئے بحران کا سامنا کر رہی ہے، جس میں سیلاب، خشک سالی، آلودگی اور گلیشیئرز کے پگھلنے جیسے مسائل شامل ہیں۔مضبوط قیادت اور مسلسل عالمی تعاون کی بدولت، تاجکستان گزشتہ دو دہائیوں سے بین الاقوامی واٹر ایجنڈے میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ اس دوران اس نے اقوام متحدہ کی اہم قراردادوں اور بین الاقوامی اقدامات کی قیادت کی ہے، جن میں پائیدار ترقی کے لیے پانی (2018-2028) کا بین الاقوامی دہائی برائے عمل بھی شامل ہے۔
پائیدار ترقی کے لیے پانی (2018-2028) کے بین الاقوامی دہائی برائے عمل کے تحت چوتھی اعلی سطحی بین الاقوامی کانفرنس 25 سے 28 مئی 2026 تک تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں منعقد ہوگی۔یہ کانفرنس حکومتوں، بین الاقوامی تنظیموں، سائنسدانوں، نوجوانوں اور سول سوسائٹی کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرے گی تاکہ وہ پائیدار ترقی کے ہدف نمبر 6 سب کے لیے صاف پانی اور صفائی اور دیگر عالمی سطح پر طے شدہ پانی سے متعلق اہداف کے حصول کے لیے اقدامات کو تیز کر سکیں، جن میں 2030 کے ایجنڈے برائے پائیدار ترقی کے اہداف بھی شامل ہیں۔کانفرنس کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر پانی سے متعلق مسائل کے حل کے لیے تعاون کو مضبوط بنانا اور عملی اقدامات کے لیے سازگار بنیاد فراہم کرنا ہے،
پانی سے متعلق پائیدار ترقیاتی اہداف اور پائیدار ترقی کے لیے پانی کے بین الاقوامی دہائی برائے عمل کے نفاذ کی حمایت کرنا بھی اس کا حصہ ہے۔یہ کانفرنس 2026 میں ہونے والی اقوام متحدہ کی واٹر کانفرنس کی تیاری کے سلسلے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی، جبکہ 2028 میں تاجکستان میں منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کی واٹر کانفرنس کے حوالے سے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ غیر رسمی مشاورت اور گفتگو بھی اس کا حصہ ہوں گی۔عالمی برادری کو دوشنبے میں مدعو کیا گیا ہے تاکہ وہ 2030 اور اس کے بعد کے عرصے کے لیے پانی کے عالمی ایجنڈے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔ کیونکہ پائیدار آبی وسائل کو یقینی بنانا درحقیقت زندگی کو یقینی بنانے کے مترادف ہے۔
