لاہور(سب نیوز)وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت پوسٹ فلڈ انتظامات کے حوالے سے ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں سیلاب سے بچاو اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے،اجلاس میں متعلقہ محکموں نے تفصیلی بریفنگ بھی دی۔
وزیراعلی نے صوبے بھر میں فلڈ زونز واگزار کرانے کے لیے فیصلہ کن اقدام کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تین ماہ کے اندر تمام فلڈ زونز خالی کرائے جائیں اور ان علاقوں میں نئی تعمیرات پر پابندی یقینی بنائی جائے، اس موقع پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ فلڈ زون میں تعمیرات پر پابندی کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے۔اجلاس میں پنجاب کے مختلف علاقوں میں 17 مقامات پر منی ڈیم بنانے کی تجویز سے اتفاق کیا گیا جبکہ چنیوٹ میں بند کی تعمیر کے لیے فیزیبلٹی رپورٹ مکمل ہونے پر اس کی اصولی منظوری بھی دے دی گئی، کالا باغ اور سدھنائی کے مقامات پر آبی ذخائر کی استعداد بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
وزیراعلی نے صوبے میں ڈیم ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی ہدایت بھی جاری کی تاکہ پانی کے بہا کو بہتر انداز میں کنٹرول کیا جا سکے، اجلاس میں پی ڈی ایم اے پنجاب کی ری سٹرکچرنگ کرتے ہوئے 8 نئے ونگز قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ 563 کلومیٹر طویل 186 سڑکیں، 446 پلیاں اور ایک پل بحال کر دیا گیا ہے، وزیراعلی نے ریسکیو 1122 کو فلڈ آپریشن کے لیے جدید آلات فراہم کرنے کی منظوری بھی دے دی، جن میں 10 لینڈنگ کرافٹ، بوٹ کیریئر ٹرک، جدید نیویگیشن اور کمیونیکیشن سسٹمز اور فلائنگ لائف بوائے جیکٹس شامل ہیں۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پنجاب کے پانچ دریاں میں 1990 ہائی رسک، 1278 میڈیم رسک اور 3169 لو رسک فلڈ زونز موجود ہیں، صوبے میں آبپاشی کے 183 منصوبے جاری ہیں جبکہ 298 ڈرین اور سیلابی نالوں اور 67 ڈرینج سسٹمز کی ڈی سیلٹنگ کی جائے گی۔اجلاس کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ رواں سال معمول سے 28 فیصد زیادہ بارشوں کی پیشگوئی کی جا رہی ہے جس کے پیش نظر پیشگی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
پنجاب میں فلڈ زونز خالی کرانے کا فیصلہ، 17منی ڈیمز بنانے کی تجویز بھی منظور
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
