Saturday, February 28, 2026
ہومکالم وبلاگزغزہ میں امن کے استحکام اور امریکہ کے ساتھ اقتصادی تعلقات کے فروغ کے حوالے سے

غزہ میں امن کے استحکام اور امریکہ کے ساتھ اقتصادی تعلقات کے فروغ کے حوالے سے

تحریر:از وکٹر اباتوروف

تاشقند:

واشنگٹن میں پیس کونسل کے افتتاحی اجلاس کے بارے میں

ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر جمہوریہ ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایف نے 17 تا 19 فروری واشنگٹن کا سرکاری دورہ کیا تاکہ پیس کونسل کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کر سکیں۔

اس دورے میں ایک جامع سیاسی ایجنڈے کو وسیع اقتصادی پروگرام کے ساتھ یکجا کیا گیا، جس کے نتیجے میں ازبک-امریکی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور کلیدی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے کے لیے متعدد معاہدے طے پائے۔

عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں شمولیت کی توسیع

پیس کونسل ایک بین الحکومتی اقدام ہے جسے صدر ٹرمپ نے نومبر 2025 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے منظور شدہ غزہ امن منصوبے کے تحت پیش کیا۔

اس پلیٹ فارم کا قیام نہ صرف انسانی امداد کو مربوط بنانے کے لیے ہے بلکہ غزہ کی پٹی میں طویل المدتی استحکام، تعمیرِ نو اور سماجی و معاشی بحالی کے لیے ادارہ جاتی نظام قائم کرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ کشیدگی کے خطرات کو کم کرنے کے لیے بھی ہے۔

پیس کونسل کے منشور پر 22 جنوری 2026 کو ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر دستخط کیے گئے۔ دستخط کنندگان میں آذربائیجان، ارجنٹائن، آرمینیا، بحرین، بلغاریہ، ہنگری، انڈونیشیا، اردن، قازقستان، قطر، مراکش، منگولیا، متحدہ عرب امارات، پاکستان، پیراگوئے، سعودی عرب، ترکیہ، ازبکستان اور کوسووو کے رہنما اور نمائندگان شامل تھے۔ بعد ازاں بیلاروس، البانیہ، کمبوڈیا، مصر، ایل سلواڈور، اردن اور کویت بھی بانی ریاستوں میں شامل ہو گئے، جس سے کونسل کی جغرافیائی اور سیاسی نمائندگی میں اضافہ ہوا۔

امریکی صدر کی دعوت پر بانی اراکین میں شامل ہو کر ازبکستان نے پُرامن سفارت کاری، بین الاقوامی قانون کے احترام اور عالمی استحکام کے لیے مشترکہ ذمہ داری کے عزم کا اعادہ کیا۔

ازبکستان نے 1994 میں فلسطین کو تسلیم کیا تھا اور وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانونی اصولوں کے مطابق فلسطینی عوام کے آزاد ریاست کے قیام کے حق کی مسلسل حمایت کرتا ہے۔

غزہ کے حوالے سے ازبکستان کی پالیسی اصولی سیاسی مؤقف کے ساتھ عملی انسانی اقدامات کا امتزاج ہے۔

2023 میں ازبکستان نے UNRWA کے ذریعے 15 لاکھ ڈالر مختص کیے۔ دسمبر 2023 میں 100 زخمی فلسطینی خواتین اور بچوں کو نکال کر طبی علاج اور بحالی کی سہولیات فراہم کی گئیں۔

2025 میں فلسطینی شہریوں کے لیے ایک جامع ریاستی معاونتی نظام تیار کیا گیا جس میں پناہ کے طریقہ کار، صحت کی سہولتوں تک رسائی، بچوں کی تعلیم اور روزگار میں مدد شامل ہے۔ ان اقدامات کی مالی معاونت کے لیے قومی سماجی تحفظ ایجنسی کے تحت ایک خصوصی فنڈ قائم کیا گیا۔

19 فروری کو واشنگٹن میں منعقدہ افتتاحی اجلاس میں 40 سے زائد ممالک کے رہنماؤں اور نمائندگان نے شرکت کی۔ مذاکرات میں انسانی امداد، بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور جنگ کے بعد کے عمل کی پائیداری پر توجہ دی گئی۔ اجلاس کے آغاز پر صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ قازقستان، آذربائیجان، متحدہ عرب امارات، مراکش، بحرین، قطر، سعودی عرب، ازبکستان اور کویت نے مشترکہ طور پر غزہ کے لیے 7 ارب ڈالر امداد دینے کا وعدہ کیا ہے، جبکہ امریکہ نے مزید 10 ارب ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کیا۔

صدر مرزیایف نے اپنے خطاب میں امن اقدام کی مکمل حمایت کا اظہار کیا اور اس پر عملی طور پر عمل درآمد میں شرکت کی تیاری ظاہر کی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کے لیے کسی بھی بیرونی انتظامی ڈھانچے کو اندرونی عوامی حمایت حاصل ہونی چاہیے تاکہ اس کی قانونی حیثیت، استحکام اور طویل المدتی مؤثریت یقینی بنائی جا سکے۔

ازبکستان نے رہائشی مکانات، اسکولوں، کنڈرگارٹن اور صحت کے مراکز کی تعمیر میں حصہ لینے کی تیاری بھی ظاہر کی۔

تجارتی و اقتصادی تعاون کی توسیع

سیاسی مکالمے کے ساتھ ساتھ اقتصادی پہلو بھی اس دورے کا اہم ستون رہا۔

حالیہ برسوں میں ازبکستان اور امریکہ نے اسٹریٹجک شراکت داری کے ادارہ جاتی نظام کو بحال کرتے ہوئے عملی تعاون کو وسعت دی ہے۔

امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک نے 13 سالہ وقفے کے بعد 2017 میں سرگرمیاں دوبارہ شروع کیں۔ ایمیزون اور ازٹریڈ کے درمیان معاہدے ہوئے، جبکہ سائنس، ٹیکنالوجی اور اقتصادی جدیدکاری کو ترجیحی شعبے قرار دیا گیا۔

2018 میں ایکسِم بینک اور ازبکستان کے نیشنل بینک برائے خارجہ اقتصادی سرگرمی کے درمیان 100 ملین ڈالر کی تجارتی فنانسنگ کی یادداشت پر دستخط ہوئے۔

ستمبر 2025 میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے دوران دونوں صدور کے مذاکرات کے نتیجے میں 100 ارب ڈالر سے زائد کے معاہدوں اور ممکنہ منصوبوں کا پورٹ فولیو تشکیل دیا گیا۔

ان معاہدوں میں ہوا بازی، کان کنی، کیمیکلز، توانائی، مالیات اور جدت شامل ہیں۔

واشنگٹن کے دورے کے دوران صدر مرزیایف نے امریکی وزیر تجارت، ایکسِم بینک کے صدر، ڈی ایف سی کے سی ای او اور امریکی تجارتی نمائندے سے ملاقاتیں کیں۔ بات چیت میں بڑے صنعتی و بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی فنانسنگ، ہائی ٹیک برآمدات کی حمایت، دوطرفہ سرمایہ کاری پلیٹ فارم کا قیام، ازبکستان کی ڈبلیو ٹی او میں شمولیت اور TIFA کے تحت علاقائی تجارتی تعاون کو مضبوط بنانے پر غور کیا گیا۔

تجارت اور سرمایہ کاری کی حرکیات

2017 سے 2025 کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم 4.7 گنا بڑھ کر 215 ملین ڈالر سے 1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

برآمدات 9.1 گنا بڑھ کر 291.7 ملین ڈالر ہو گئیں جبکہ درآمدات 712.3 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔

امریکہ کو برآمدات میں خدمات کا حصہ 81 فیصد ہے، جن میں پروگرامنگ، مالیاتی، معلوماتی اور ٹرانسپورٹ خدمات شامل ہیں۔

امریکہ سے درآمدات میں مشینری اور آلات کا حصہ 59 فیصد ہے، جن میں ہوائی جہاز، گاڑیاں، کمپیوٹر آلات اور صنعتی مشینری شامل ہیں۔

امریکی براہ راست سرمایہ کاری اور قرضوں میں نمایاں اضافہ ہوا، اور فروری 2026 تک 346 امریکی سرمایہ سے وابستہ ادارے ازبکستان میں کام کر رہے ہیں۔

گہرے اقتصادی اشتراک کے امکانات

موجودہ رجحانات ظاہر کرتے ہیں کہ تعلقات تجارتی توسیع سے آگے بڑھ کر طویل المدتی صنعتی و تکنیکی شراکت داری کی طرف جا رہے ہیں۔

امریکہ میں ٹیکسٹائل، خوراک اور دواسازی کی سالانہ درآمدات کو دیکھتے ہوئے ازبک برآمدات میں نمایاں اضافے کے مواقع موجود ہیں۔

آئی ٹی شعبے میں امریکہ ازبکستان کی برآمدات کا 45 فیصد حصہ رکھتا ہے۔ مستقبل میں NVIDIA، Intel اور Qualcomm جیسی کمپنیوں کے ساتھ الیکٹرانکس اور مائیکرو الیکٹرانکس کی مشترکہ پیداوار عالمی ویلیو چین میں انضمام کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

توانائی، دواسازی اور نجکاری کے شعبوں میں بھی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ 2030 تک معیشت میں نجی شعبے کا حصہ 85 فیصد تک پہنچانے کا ہدف مقرر ہے، جبکہ 2000 اداروں میں حصص فروخت اور 30 ارب ڈالر کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبے متوقع ہیں۔

نتیجہ

صدر مرزیایف کا واشنگٹن کا دورہ اور پیس کونسل کے افتتاحی اجلاس میں شرکت سفارتی اور اقتصادی دونوں لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے۔

پیس کونسل میں شمولیت ازبکستان کی عالمی حیثیت کو مضبوط کرتی ہے اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں اس کے کردار کو وسعت دیتی ہے۔

ساتھ ہی طے پانے والے معاہدے اور مشترکہ منصوبوں کا پھیلتا ہوا دائرہ ازبک-امریکی تعلقات کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرتا ہے، جو گہرے ادارہ جاتی تعاون، صنعتی انضمام اور طویل المدتی اسٹریٹجک اعتماد پر مبنی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔