Monday, February 23, 2026
ہومبریکنگ نیوزجیل میں آپ کے پاس آنکھ تک کا علاج نہیں، دل کا کیسے کریں گے؟ سپریم کورٹ کے کیس میں اہم ریمارکس

جیل میں آپ کے پاس آنکھ تک کا علاج نہیں، دل کا کیسے کریں گے؟ سپریم کورٹ کے کیس میں اہم ریمارکس

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ ملزم کی میڈیکل گراؤنڈ پر ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس دوران فاضل ججز نے جیلوں میں طبی سہولیات سے متعلق اہم ریمارکس دیے۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا موکل دل کے عارضے میں مبتلا ہے اور اس کی حالت تشویشناک ہے۔ وکیل کے مطابق حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کی رپورٹ میں ملزم کو فوری آپریشن کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ جیل میں مناسب طبی سہولیات میسر نہیں اور “وہاں تو ڈسپرین کے علاوہ کچھ نہیں ملتا”۔

سماعت کے دوران جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ “جیل میں تو آپ کے پاس آنکھ تک کا علاج نہیں، دل کا علاج کیا کریں گے۔”

جسٹس ملک شہزاد نے استفسار کیا کہ ملزم اس وقت کس جیل میں قید ہے؟ اس پر وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ ملزم مردان جیل میں ہے۔

جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ مردان میں ہی میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیتے ہیں۔ تاہم وکیل نے مؤقف اپنایا کہ مردان میں کارڈیالوجی کا اسپتال موجود نہیں، لہٰذا پشاور کارڈیالوجی اسپتال میں بورڈ تشکیل دیا جائے۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد پشاور کارڈیالوجی کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دے دیا اور بورڈ کو ہدایت کی کہ ملزم کا تفصیلی طبی معائنہ کر کے رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔

سپریم کورٹ نے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ 9 مارچ تک طلب کر لی ہے، جس کے بعد ضمانت کی درخواست پر مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔