Wednesday, February 11, 2026
ہومپاکستانپیکا ایکٹ کے خلاف پی ایف یو جے کی درخواست پر سماعت، وکلاء اور صحافیوں کے سخت دلائل

پیکا ایکٹ کے خلاف پی ایف یو جے کی درخواست پر سماعت، وکلاء اور صحافیوں کے سخت دلائل

اسلام آباد: پیکا ایکٹ کے خلاف پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکلاء اور صحافی نمائندوں نے قانون کو آزادیٔ اظہار کے خلاف اور آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے سخت دلائل دیے۔

سماعت کے دوران سمیع الدین ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ پیکا قانون میں فیک نیوز کی کوئی واضح اور قانونی تعریف موجود نہیں، جس کے باعث یہ قانون من مانی تشریح کے تحت کسی کے خلاف بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیکا قانون اس حد تک مبہم ہے کہ موسم سے متعلق غلط خبر دینے پر بھی اس کے تحت کارروائی ممکن ہے۔
سمیع الدین ایڈووکیٹ کے مطابق اس قانون میں یہ شرط بھی موجود نہیں کہ مدعی مقدمہ متاثرہ فریق ہی ہو، کوئی بھی شخص مدعی بن سکتا ہے، جو قانون کے غلط استعمال کی واضح مثال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون عملی طور پر اظہارِ رائے کی آزادی کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔

راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر آصف بشیر چوہدری نے عدالت سے عبوری ریلیف فراہم کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ پیکا ایکٹ کے تحت دو درجن کے قریب صحافیوں کو عمر قید کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں جبکہ درجنوں صحافیوں کے خلاف مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتیں بھی اس قانون کا کھلے عام غلط استعمال کر رہی ہیں، حتیٰ کہ سڑک کی تعمیر میں ناقص میٹیریل استعمال ہونے کی خبر پر بھی پیکا قانون کے تحت مقدمہ درج کر دیا گیا۔
آصف بشیر چوہدری نے عدالت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ نے کہا تھا کہ اگر کوئی ایڈورس ایکشن ہوا تو آپ موجود ہوں گے، مگر پورے پاکستان کے اہلِ قلم آج بھی آپ کی عدالت کی جانب دیکھ رہے ہیں اور تاحال عبوری ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ آج اس مقدمے کی سماعت کو عدالت میں ایک سال مکمل ہو چکا ہے، آپ بطور ایڈہاک جج ایک سال تک کیس سنتے رہے اور اب کنفرم ہو چکے ہیں، اس کے باوجود صحافیوں کو ریلیف نہیں ملا۔

ریاست علی آزاد ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پیکا ایکٹ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 19 اور 19-A سے متصادم ہے اور اس قانون کے ذریعے ہر اختلافی آواز کو فیک نیوز کے نام پر خاموش کرا دیا گیا ہے۔

سماعت کے موقع پر عدالت میں سینئر وکلاء عمران شفیق ایڈووکیٹ، سمیع الدین ایڈووکیٹ، ریاست علی آزاد ایڈووکیٹ، صدر راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس آصف بشیر چوہدری، جنرل سیکرٹری راجہ بشیر عثمانی، صدر ہائی کورٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن حسین احمد چوہدری، اویس یوسفزئی، احتشام کیانی اور فیصل محمود عباسی بھی موجود تھے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔