اسلام آباد:(آئی پی ایس) قومی اسمبلی کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ سرکاری خرچ پر قومی اسمبلی کے ارکان کو حج یا عمرے کی کوئی سہولت حاصل نہیں ہے اور نہ ہی ایسی سہولت دی جا سکتی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ قومی اسمبلی میں نومبر 2016 میں منظور ہونے والی قرارداد کے تحت ہر سال قومی اسمبلی کے ممبران کا ایک وفد ذاتی خرچ پر ۲۱ ربیع الاول کو روزہ رسول میں شرکت کے لیے جاتا ہے۔ قرارداد کی روشنی میں وفد کے تمام ممبران اپنے اخراجات خود برداشت کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وزارت مذہبی امور صرف انتظامی امور کے لیے سہولت فراہم کرتی ہے اور اس کے تحت بھی وزارت کسی قسم کے اخراجات برداشت نہیں کرتی۔
ترجمان نے یہ بھی واضح کیا کہ سرکاری خرچ پر کسی بھی دورے کی تجویز کسی رکن کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے لیکن اس کی منظوری نہیں دی گئی۔
ترجمان کا موقف: “تمام دورے ذاتی خرچ پر ہوتے ہیں، خبریں حقیقت کے منافی ہیں۔”
