Sunday, May 17, 2026
ہومپاکستانبلاول بھٹو کاویژن کراچی کو موہنجو دڑو بنانے کا ہے، حافظ نعیم الرحمان

بلاول بھٹو کاویژن کراچی کو موہنجو دڑو بنانے کا ہے، حافظ نعیم الرحمان

کراچی(سب نیوز)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کا مشن کراچی کو موہنجو دڑو بنانے کا ہے، سندھ کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی پر برا وقت آتا ہے تو مصنوعی لڑائی لڑنا شروع کر دیتے ہیں، کراچی میں پیپلز پارٹی کو بھی فارم 47 کے ذریعے مسلط کیا گیا، پیپلز پارٹی کراچی دشمن جماعت ہے ان کو کوئی ووٹ نہیں دیتا، آئین میں ترمیم کرنا ہو تو پیپلزپارٹی حکومت کا ساتھ دیتی ہے، جب عوام کی بات آئے تو بلیم گیم شروع ہوجاتا ہے، کراچی منی پاکستان ہے اور پیپلز پارٹی کراچی سے دشمنی کرتی ہے۔
ایم کیو ایم کی کراچی بچائو مہم پر تبصرہ کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ اب ایم کیو ایم غیر متعلقہ ہوچکی ہے، ایم کیو ایم کو سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں، ہم بھی انہیں سنجیدہ نہیں لیتے، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی ہر کام مل کر کرتے ہیں اور پورا حصہ لیتے ہیں پھر کس طرح ایسی بات کرتے ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ایم کیو ایم اب بھی وفاقی حکومت کا حصہ ہے، عوام، آئین اور جمہوریت دشمن کاموں میں تمام جماعتیں متحد ہوتی ہیں مگر کام کا وقت آتا ہے تو ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے لگتے ہیں، جو قوتیں انہں ہمارے سروں پر مسلط کرتی ہیں وہ جان لیں جو گند پھیلاتا ہے صاف بھی اسی کو کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے چاروں صوبوں میں گورننس کا بحران ہے، کراچی کا پنجاب سے موازنا نہ کیا جائے، پنجاب میں جتنے فنڈز ملتے ہیں اس حساب سے کارکردگی دیکھی جائے، سندھ کا تو برا حال ہے ہی لیکن پنجاب میں بھی دودھ کی نہر نہیں بہہ رہیں۔
ان کا کہنا تھا سندھ کی صورتحال کو دیکھتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے، یہ لوگ غلط بیانی سے کام لیتے ہیں، پیپلزپارٹی کہتی ہے کہ کے فور منصوبہ وفاق کی ذمہ داری ہے، یہ لوگ جب وفاق میں تھے اس وقت انہوں نے کیا کیا تھا، اب بھی یہ وفاق کا حصہ ہیں، ہر مشکل وقت میں وفاق کے ساتھ ہیں، کے فور کیلئے پانی کو گھروں تک پہنچانے کا کام بھی تو سندھ حکومت کا تھا لیکن سندھ حکومت نے اپنے حصے کا کوئی کام نہیں کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کراچی کے 3 ہزار 400 ارب روپے کھا گئی ہے، نعمت اللہ خان نے اپنے دور کے آخر میں کے فور پر کام شروع کردیا تھا، 21 سال ہوگئے ابھی تک منصوبہ مکمل نہیں ہوا۔حافظ نعیم نے کہا کہ کراچی کی شہری سوال کرتے ہیں کب تک ہمارے بچے ڈمپر سے کچلے جاتے رہیں گے، کب تک بچے گٹروں میں گر کر ہلاک ہوتے رہیں گے، شہر کو اس مافیا سے نجات دلانا ہوگی، صوبہ بنانے کی بات اس لیے کی جاتی ہے تاکہ سندھی مہاجر لڑیں، صوبے بنانے سے کس نے روکا ہے؟۔ تمام اختیارات کی مقامی حکومتوں کو منتقلی سے کون روکتا ہے، کون سی آئینی ترمیم کی ضرورت ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔