اسلام آ باد،حکومت نے ملک کے لئے پائیدار اور جامع معاشی ترقی کے حصول کے لئے آئندہ سالوں کے لئے معاشی روڈ میپ کا اعلان کردیا ، اقتصادی مشاورتی کونسل کی جانب سے تیاری کردہ معاشی روڈ میپ کے تحت آئندہ تین سالوں کے دوران معاشی ترقیکو 6فیصد تک لے کر جانا ہے،مہنگائی کو کنٹرول کرنا ہے، ملامتوں کے مواقع پیدا کرنے ہیں اور غربت کو کم کرنا ہے،ٹیکس ٹو جی ڈی پی ہر سال 2 فیصد تک بڑھانا ہے،توانائی کی قیمتوں کو ٹھیک کرنا ہے تا کہ گردشی قرضہ ختم کیا جا سکے،سرمایہ کاری کو جی ڈی پی کے 20فیصد تک بڑھانا ہے،سمال میڈیم انٹرپرائز(ایس ایم ای) کے شعبے کی پیداوار کو 16فیصد کرنا ہے، آئی ٹی کے شعبے پر خصوصی توجہ دی جائے گی،ایف بی آر کا ریونیوہر سال جی ڈی پی کے ایک فیصد کے تناسب سے بڑھانا ہے، سرکاری اداروں کی بہتری کی جائے گی، برآمدات میں تناوع لایا جائے گا،ترسیلات زر میں اضافہ کیا جائے گا،سی پیک کے تحت زراعت، صنعتی تعاون، سماجی و معاشی ترقی اور فنانشل انکلیوژن پر خصوصی توجہ دی جائے گی جبکہ وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اگر تیار ہوتیں ہیں تو میثاق معیشت ہونا چاہیے، آئی ایم ایف کے پروگرام سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، آئی ایم ایف سے پروگرام پر مذاکرات جاری ہیں اور اچھی گفتگو ہو رہی ہے، امید ہے دوستانہ حل نکل آئے گا، معاشی روڈ میپ پر عملدرآمد اور کارکردگی پر ہرماہ متعلقہ وزارتیں وزیراعظم کو پریذینٹیشن دیں گیں،پہلی دفعہ معاشی سمت کا تعین کیا گیا ہے اور جامع معاشی منصوبہ بندی کی گئی ہے ،میں اپنے ا عمال کا جوادہ ہوں، گزشتہ عرصے میں کیا ہوا، اس حوالے سے مجھ سے نہ پوچھا جائے۔
جمعہ کو پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں وزیر خزانہ شوکت ترین نے وفاقی وزراء مخدوم خسرو بختیار، سید فخرامام، عبد الرزاق دائود،اعلی سرکاری حکام اور نجی شعبہ کے ماہرین کے ہمراہ گزشتہ تین سال کے دوران معاشی کارکردگی اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے کچھ ماہ پہلے اقدام اٹھایا تھاکہ حکومت کی جو معیشت سے متعلقہ وزارتیں ہیںا ن کی منصوبہ بندی منظم انداز سے ہو،1972کے بعد جب منصوبہ بندی کا مینڈیٹ تبدیل کیا گیا تو اس کے بعد اس پر کوئی کام نہیں ہوا،ہم نے اقتصادی مشاورتی کونسل قائم کی ۔ اس میں سرکاری اور نجی شعبہ کے ماہرین شامل کئے ۔اس پر کام کیا کہ ہماری معاشی حکمت عملی کیا ہونی چاہیے۔ پالیسی کے تحت معیشت کے لئے 14 ورٹیکلز بنائے۔ ان کو مینڈیٹ دیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملکر شارٹ، میڈیم اور لانگ ٹرم معاشی پلان بنائیں۔اس پر بہت کام ہوا۔انہوں نے اقتصادی مشاورتی کونسل کی جانب سے تیاری کئے گئے پلان کی رونمائی بھی کی۔ انہوں نے کہاکہ وزارت خزانہ کے تحت معاشی اصلاحات یونٹ اس معاشی حکمت عملی پر عمل کرے گا۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈولپمنٹ اکنامکس( پائڈ) اس کے عملد رآمد میں ہماری معاونت کرے گا۔ یہ ہمیں ماہرین کی خدمات فراہم کر ے گا،ہر ماہ وزارتیں وزیر اعظم کو اس حوالے سے کارکردگی پر پریذینٹیشن دی جائے گی۔اس سے ایک طریقہ کار وضع کردیا ہے۔ یہ جو منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اس پر عمل درآمد کیسے ہو گا۔اس پر منظم طریقہ سے عمل کیا جائے گا۔یہ سفر شروع کردیاہے ۔ ستمبر سے کاکردگی کا جائزہ شروع ہو جائے گا۔یہ ایک تاریخی قدم ہے۔ہم اگر اسٹریٹجی ہی نہیں بنائیں گے تو ایک سمت میں معاشی ترقی کیسے لے جائیں گے۔ پیداوار بڑھاتے ہیں تو ٹرانسمیشن پر کام نہیں کرتے۔بعد میں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔بجلی کی پیداوار 30 ہزار سے زائد ہے لیکن ٹرانسمیشن کی صلاحیت 24000 میگاواٹ ہے۔ اس سے اس طرح کے مسائل حل ہوں گے۔ ملک میں معیشت میں مثبت تبدیلی آ ئی ہے۔ بیرون ملک سے سرمایہ کاری میں 108فیصد بہتری آئی ہے۔ ٹیکسٹائل کی بر آمدات میں 17فیصد اضافہ ہوا ہے۔آج ملک میں جو موبائل بن رہے ہیں۔امپورٹ سے زیادہ ہوگئے ہیں۔ پریس کانفرنس کے دوران حکومت کی گزشتہ تین سال کے دوران معاشی کار کردگی پر ڈیجیٹل پریذینٹیشن بھی دی گئی ۔وزیر خزانہ شو کت ترین نے کہاکہ اس منصوبہ بندی کی تیاری پر13لوگوں نے کام کیا ہے۔ہماری گروتھ پائیدار کیوں نہیں ہے۔اس پر کام کیاگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پائیدار ترقی کے حصو ل کے لئے پہلی دفعہ جامع معاشی پلان بنایا گیا ہے۔ اس کی عملدرآمد میں معیشت میں بہتری آئے گی۔ متعلقہ وزارتیں ہر ماہ عملدرآمد کے حوالے سے اپنی کارکردگی پر وزیراعظم کو جواب دیں گیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ معیشت کی بہتری کے لئے اب منظم انداز میں آگے پڑیں گے۔ پلان پر عملدرآمد کی لاگت کم ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت لانگ ٹرم پلان پر عمل کر رہی ہے۔ معاشی ویژن دیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میں اپنے ا عمال کا جوادہ ہوں۔ گزشتہ عرصے میں کیا ہوا۔ اس حوالے سے مجھ سے نہ پوچھا جائے۔ ہم اپنی کارکردگی تسلسل کے سامنے رکھیں گے۔ انہوں نے کہاکہ سٹیل ملز کے لئے ایکسپریشن آف انٹرسٹ چند دن میں جاری ہوگا۔نیشنل بینک کے پنشنرز کا معاملہ عدالت میں ہے۔آئوٹ کورٹ مسئلہ کے حل کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ چارٹر آف اکانومی ہونی چاہیے۔ اپوزیشن جماعتیں اگر اس پر تیار ہوتیں ہیں تو عمران خان نے کہا ہے کہ آپ ان کے ساتھ اس پر کام کریں۔ آئی ایم ایف سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ان کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ اچھی گفتگو ہو رہی ہے۔ ستمبر میں واشنگٹن جائوں گا اور آمنے سامنے بیٹھ کر بات کریں گے۔اس آئی ایم پروگرام پر دوستانہ حل نکل آئے گا۔سابق گورنراسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت بنک نے معاشی روڈ میپ پراظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ معیشت کے مستقبل کے روڈ میپ بنانے کے لئے کام کیا ہے۔ تاکہ ایسی ترقی حاصل کی جائے تاکہ سارے عوام کو اس کا فائدہ پہنچے اور پائیدار گروتھ ہو۔ملک کی پیداوار کی صلاحیت کم ہے۔جس وجہ سے امپورٹ پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ ادائیگیوں کا توازن خراب ہوتا ہے اور قرضے لینے پڑتے ہیں۔عام شہری کو فائدے پہچانے کے لئے مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنا ہے۔ اس عمل کو مکمل کرنا ہے۔ زراعت میں فی ایکڑ پیداوار بڑھانا ہو گی۔آئی ٹی سیکٹر ترقی کر رہا ہے۔ہم 2 ارب ڈالر تک پہنچے ہیں۔ اس کو بڑھانا ہے۔ کاروبار کی لاگت زیادہ ہے۔ایف بی آر کا ٹیکس نیٹ بڑھانا ہے۔ریونیو کو بڑھانا ہے۔ خسارہ میں چلنے والے ادارے درست کرنا ہے۔ برآمدات میں تنوع لاناہے۔ترسیلات زر کو مزید بڑھانا ہے۔ گردشی قرضوں کو کنٹرول کرنا ہے۔ گروتھ کی سٹریٹجی بنائی ہے۔ اس پر پورا کام کیا ہے۔وزیر صنعت و پیداوار مخدوم خسرو بختیار نے کہا کہ کوویڈ کی وجہ سے مینوفیکچرنگ سیکٹر پر اثر پڑا۔ہم نے اپنی پیداوار صلاحیت استعمال کی۔آٹو سیکٹر، سیمنٹ، موبائل،سٹیل سیکٹر میں گروتھ ہے۔ ایل ایس ایم کے شعبہ میں 10فیصد گروتھ ہے۔اسسیکٹر پر ہمارا پورا فوکس ہے۔اس میں دشواریوں کو حل کیا ہے۔مینوفیکچرنگ اور انجنئیرنگ سیکڑ کو ترقی دینی ہے۔کراچی ملک کا معاشی انجن ہے۔اسٹیل ملزکا15 سو ایکڑ کا پلاٹ انڈسٹری کو دے رہے ہیں۔اس پر انڈسٹریل پارک بنا رہے ہیں۔ ایسی انڈسٹری لائیں گے کہ برآمدات بڑھیں۔ زیادہ سے زیادہ میڈ ان پاکستان مصنوعات کو بنانے پر فوکس ہے۔ مشیر تجارت عبد الرزاق دائود نے کہا کہ خوشی ہے کہ برآمدات کو ترقی دینے کے لئے بھرپور توجہ دی جا رہی ہے۔ بر آمدات کے جولائی کے اہداف پورے ہیں۔ برآمدات کا ہدف 31ارب ڈالر سے زائد ہے۔امپورٹ کو کنٹرول کرنے کی جانب توجہ ہے۔میک ان پاکستان پر کام ہو رہا ہے۔ اب موبائل فون کی امپورٹ نہیں کر رہے ہیں۔ یہاں بنا رہے ہیں۔ ٹیرف کو درست کیا ہے۔50 فیصد رامیڑیل ڈیوٹی فری آرہا ہے۔ وزیر برائے قومی تحفظ خوراک سید فخر امام نے کہاکہ زراعت پر گزشتہ 20سال سے کام نہیں کیا گیا۔اس شعبہ کو ترجیح نہیں دی گئی۔ اس وجہ سے ذراعت کی ترقی کم ہو کر تین فیصد تک آگئی۔ گزشتہ سال مشکلات کے باوجود بہتر کام کیا ہے۔گندم کی سپورٹ پرائس 1800 روپے کی ۔ ان پٹس کی لاگت کم کی۔بڑی فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا۔کپاس کے لئے امدادی قیمت مقرر کی۔کپاس پر بھرپور توجہ دے رہے ہیں۔ 10 بلین بیلز کے ہدف کے قریب آجائیں گے۔تحقیق کے ادارے آپ گریڈ کر رہے ہیں،سائنس دانوں کا معیار عالمی سطح کا کر نے پر کام کر رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے ٹرانسفر پر کام کر رہے ہیں۔مالٹا اور مانگو میں ریکارڈ برآمدات ہوئیں ہیں۔عارف حبیب نے کہا کہ تعمیرات اور ہاسنگ سیکٹر کنسٹرکشن سیکٹر پر ہماری سفارشات کو بجٹ میں شامل کیا گیا ہے۔اسٹیک ہولڈر کے ساتھ ملکر حکومت بنا رہے ہے۔ اس سے مثبت نتائج آئیں گے۔ حکومت نے کنسٹرکشن پیکیج کے اچھے نتائج آرہے ہیں اور اس میں گروتھ ہے۔ سابق گورنر اسٹیٹ بینک سلیم رضا نے فنانشل شعبہ کی گزشتہ تین سال کے دوران کارکردگی کو اجاگر کیا۔حکومت کی اقتصادی مشاورتی کونسل کی جانب سے تیار کی گئی معاشی حکمت عملی کے تحت معیشت کو مختلف شعبوں کے حوالے سے 14حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں فنانشل سیکٹر، ہائوسنگ و تعیمرات، گردشی قرضہ، ڈیجیٹل اکانومی، صنعت سازی، مقامی تجارت، سرکاری ادارے و نجکاری، توانائی، احساس، سی پیک، قیمتوں کا استحکام اور اخراجات شامل ہیں۔ حکومت کی جانب سے جاری کی گئی منصوبہ بندی میں کہا گیا ہے کہ اس منصوبہ بندی کا مقصد معاشی ترقی کو آئندہ تین سالوں کے دوران 3فیصد سے بڑھا کر 6فیصد تک لے کر جانا ہے، پائیدار معاشی ترقی حاصل کرنی ہے،مہنگائی کو کنٹرول کرنا ہے، ملامتوں کے مواقع پیدا کرنے ہیں اور غربت کو کم کرنا ہے،ٹیکس ٹو جی ڈی پی ہر سال 2 فیصد تک بڑھانا ہے،توانائی کی قیمتوں کو ٹھیک کرنا ہے تا کہ گردشی قرضہ ختم کیا جا سکے،سرمایہ کاری کو جی ڈی پی کے 20فیصد تک بڑھانا ہے،سمال میڈیم انٹرپرائز(ایس ایم ای) کے شعبے میں 16فیصد پیداوار میں اضافہ کرنا ہے، آئی ٹی کے شعبے پر خصوصی توجہ دی جائے گی،ایف بی آر کا ریونیوہر سال جی ڈی پی کے ایک فیصد کے تناسب سے بڑھانا ہے، سرکاری اداروں کی بہتری کی جائے گی، برآمدات میں تناول لایا جائے گا،ترسیلات زر میں اضافہ کیا جائے گا،گردشی قرضے کو ختم کرنے کیلئے منصوبے پر عمل کیا جائے گا،احساس پروگرام کے تحت خوراک، توانائی پر ٹارگیٹڈ سبسڈی دی جائے گی، سی پیک منصوبوں کو مکمل کیا جائے گا اور سی پیک کے تحت زراعت، صنعتی تعاون، سماجی و معاشی ترقی اور فنانشل انکلیوژن پر خصوصی توجہ دی جائے گی،قابل تجدید توانائی 60فیصد تک کیا جائے گا،احساس پروگرام میں توسیع کی جائے گی،جنرل سیلز ٹیکس میں کمی کی جائے گی،ماحولیات کے شعبے کو بہتر کیا جائے گا،جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی حاصل کی جائے گی،سرکاری قرضوں کو کنٹرول کیا جائے گا،معیشت کو ڈیجیٹلائز کیا جائے گا،درآمدات کو کنٹرول کیا جائے گا۔
حکومت نے پائیدار، جامع معاشی ترقی کیلئے معاشی روڈ میپ کا اعلان کر دیا
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
