اسلام آباد ، غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ کے سلسلے میں سینیٹ کی قائمہ کا اجلاس کمیٹی چیئرمین سینیٹر نصیب اللہ بازئی کی سربراہی میں پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا۔اجلاس میں پاکستان سے غربت کے خاتمے کے لئے قائم کیئے گئے فنڈ(پی پی ای ایف)،احساس پروگرام کے تحت غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ کے لئے مجموعی بجٹ اور دیگر اہم امور زیر غور آئے۔اجلاس میں سینیٹر پروفیسر ڈاکٹر مہر تاج روغانی،ثمینہ ممتاز،کیشو بائی،محمد صابر شاہ،کامران مرتضی،مولوی فیض محمد،عون عباس بپی اور وزارت کے اعلیٰ احکام نے شرکت کی۔
وزیر اعظم کی خصوصی معاون سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کمیٹی کو بتایا کہ احساس پراگرام کے دائرکار اور اہم امور پر آگاہ کیا۔صحت اور تعلیم کے شعبے میں اقدامات کے حوالے سے ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بتایا کہ نظام میں بہتری کے لئے کوشاں ہیں اور صحت سہولت پروگرام کے تحت سب کو سماجی تحفظ فراہم کرنے کے لئے بر سر پیکار ہیں۔انہوں نے پروگرام کے تمام اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی اور منصوبے کے اہم پہلوؤں کے بارے میں آگاہ کیا۔کمیٹی میں بتایا گیا کہ احساس پروگرام “ون ونڈو سنٹرز” کے تحت صوبوں کی معاونت سے تمام سہولیات فراہم کرنے میں سرگرم ہے احساس کیش ٹرانسفر پروگرامز اور خاص طور پر خواتین کے لئے شروع کئے گئے کفالت پروگرام کے بارے میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس پروگرام کی مدد میں مختص رقم کو 176ارب روپے تک بڑھایا جا رہا ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس وقت 5.8ملین افراد اس پروگرام سے استعفادہ کر رہے ہیں اور ان کی معاونت کی جارہی ہے کمیٹی کو بتایا گیا کہ وسیلہ تعلیم کے تحت بچوں کی تعلیم کے لئے مالی معاونت کی فراہمی کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔پی پی ایف کے کام کے طریقے کار اور نظام کاری کے بارے میں بھی کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ غربت میں گھرے ایک خاندان کو غربت سے نکلنے میں کم سے کم دو سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔حکام نے بتایا کہ استعداد کار کو بڑھانا اس مقصد کے لئے انتہائی اہم ہے۔اور پی پی ایف اس وقت 147اضلاع میں مختلف تنظیموں کے ساتھ ملکر غربت کے خاتمے کے اقدامات پر کام کر رہا ہے۔کمیٹی کو مستقبل کے منصوبوں اور حکمت عملی کے بارے میں آگاہ کیا اور بتایا کہ ان کاوشوں سے پائیدار ترقی کے ایراف کے حصول میں مدد ملے گی۔کمیٹی نے ان اقدامات کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا۔کمیٹی کو ٹی وی او کے تنظیمی ڈھانچے،اغرض و مقاصد،غربت کے خاتمے میں کردار اور دیگر اہم امور پر بھی بریفنگ دی گئی۔کمیٹی چیئرمین سینیٹر نصیب اللہ بازئی نے کہا کہ غربت ایک لعنت ہے اور اس پر قابو پانے میں کمیٹی اپنی ہر طرح کی معاونت فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے پسماندہ طبقات کے معیار زندگی میں بہتری لانے کے لئے جن پہلوؤں کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے اس کے انتہائی مثبت نتائج برآمد ہونگے۔انہوں نے کہا احساس پروگرام کو ملک کے کونے کونے میں پھیلانے کی ضرورت ہے تاکہ دور دراز علاقوں میں رہنے والے پسماندہ اور کم ترقی یافتہ علاقوں کو ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لایا جا سکے۔
احساس کفالت پروگرام کیلئے مختص رقم کو 176ارب تک بڑھایا جا رہا ہے، ثانیہ نشتر کی کمیٹی کو بریفنگ
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
