کابل/واشنگٹن ،طالبان نے افغانستان کے مزید 3 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ حاصل کرلیا جس کے بعد ان کے زیر قبضہ اہم شہروں کی تعداد بڑھ کر 9 طالبان ہوگئی ہے۔
خیال رہے کہ افغانستان کے 34 صوبے ہیں، جن میں سے 9 کے صوبائی دارالحکومتوں پر اس وقت طالبان قبضہ حاصل کرچکے ہیں۔امریکی خبر رساں ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق شمال مشرق میں بدخشاں اور بغلان صوبوں اور مغرب میں صوبہ فراہ کے دارالحکومتوں پر قبضے سے پیشگی لہر کو روکنے کے لیے ملک کی مرکزی حکومت پر دبا ئوبڑھ گیا ہے۔فی الوقت کابل کو پیشگی طور پر براہِ راست کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن طالبان کے مسلسل افغان سیکیورٹی فورسز پر حملے جاری ہیں جو اب بڑی حد تک اپنے طور پر باغیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔مذکورہ صورتحال پر افغان حکومت اور فوج کا کوئی مقف فوری طور پر سامنے نہیں آیا۔فراہ سے تعلق رکھنے والے ایک رکن اسمبلی ہمایوں شاہی زادہ نے اے پی کو تصدیق کی کہ طالبان ان کے صوبے کے دارالحکومت پر قبضہ کرچکے ہیں۔دوسری جانب بدخشاں کے ایک رکن اسمبلی حجت اللہ خردمند نے کہا کہ طالبان نے ان کے صوبے پر قبضہ کرلیا ہے۔علاوہ ازیں ایک افغان عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر نقصان کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ بغلان کے دارالحکومت پر بھی قبضہ ہوگیا۔اس سے قبل طالبان، جنگ زدہ ملک کے بڑے شہروں میں سے ایک قندوز سمیت 6 دیگر صوبائی دارالحکومتوں پر ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں قبضہ کرچکے تھے۔20 سال تک جاری رہنے والے مغربی افواج کے مشن اور افغان فورسز کی تربیت اور انہیں بہتر بنانے کے لیے اربوں ڈالرز خرچ کرنے کے بعد بہت سے افراد کی اس حوالے سے متضاد رائے ہے کہ باضابطہ افواج کیوں زوال پذیر ہوئیں جو کبھی کبھی سیکڑوں کی تعداد میں میدان سے فرار ہوگئے۔دوسری طرف افغان صدر اشرف غنی نے آرمی چیف ولی احمد زئی کو عہدے سے ہٹا دیا، ان کی جگہ ہیبت اللہ کو نیا سپہ سالار مقرر کیا ہے۔افغانستان میں جنگ کا بازار گرم ہے، افغان فورسز اور طالبان کئی علاقوں میں آمنے سامنے ہیں۔ خبر ایجنسی کے مطابق طالبان نے 9ویں صوبائی مرکز فیض آباد پر بھی قبضہ کر لیا۔ قندوز سے کابل آنے والی شاہراہ پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا۔ مزار شریف کی طرف بھی پیش قدمی جاری ہے، نواحی علاقوں میں شدید لڑائی جاری ہے۔صدر اشرف غنی شمالی علاقوں کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے خود مزار شریف پہنچ گئے، انہوں نے افغان فوج کی مختلف محاذوں سے پسپائی کے سبب آرمی چیف ولی احمد زئی کو عہدے سے ہٹایا ہے۔علاوہ ازیں امریکی انٹیلی جنس ادارے کی رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ طالبان 90 روز میں افغان سیکیورٹی فورسز کو ہر محاذ پر شکست دیکر دارالحکومت پر قابض ہوسکتے ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ادارے نے طالبان کی موجودہ استعداد اور تیزی سے جاری فتوحات کو دیکھتے ہوئے اپنی رپورٹ میں تخمینہ لگایا ہے کہ طالبان 90 روز کے اندر افغان دارالحکومت کا کنٹرول بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان نے صرف 5 روز میں افغانستان کے ایک چوتھائی صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کرلیا ہے اور اسی تیزی سے پیش قدمی جاری رہی تو آئندہ 30 دنوں میں طالبان افغان حکومت کو کابل تک محدود کرسکتے ہیں۔امریکی انٹیلی جنس ادارے نے رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ آئندہ طالبان 90 روز میں حکومتی فورسز سے کابل کا کنٹرول بھی حاصل کرلیں گے اور اس طرح پورے ملک میں اپنی عمل داری قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
طالبان کا مزید 3صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ، طالبان 90دن میں افغانستان کا مکمل کنٹرول حاصل کرسکتے ہیں، امریکی انٹیلیجنس
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
