اسلام آباد،پی ڈی ایم نے مہنگائی پر حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا اور حکومت کی جانب تمام انتخابی اصلاحات مسترد کر دیں۔
مسلم لیگ (ن)کے سیکریٹریٹ میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا 3 ماہ بعد ساڑھے 4 گھنٹہ کا طویل اجلاس مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت ہوا جس میں نواز شریف لندن اور مریم نواز لاہور سے ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے، اجلاس میں حکومت مخالف تحریک کے آئندہ مراحل اور ملک کو لاحق خارجہ محاذ پر خطرات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں انتخابات ترمیمی بل پر حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ پی ڈی ایم اس معاملے پر سخت موقف اختیار کرے گی۔اس کے علاوہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے متعلق بھی پی ڈی ایم نے سخت موقف اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیر پا نے بڑا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم کی خالی نشستوں کو پر کیا جائے۔آفتاب شیر پا کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور اے این پی کے خالی کردہ عہدوں پر تقرریاں کی جائیں۔اجلاس کے دوران پی ڈی ایم نے حکومت کے ہر طرح کے الیکشن ریفارم کو مسترد کر دیا ہے۔ پی ڈی ایم نے الیکشن پر مکمل توجہ مرکوز کرنے جبکہ مسلم لیگ (ن)کے صدر شہباز شریف نے ملک گیر مہنگائی کے خلاف تحریک چلانے کی تجویز دی۔ پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور دیگر رہنمائوں کے ہمراہ میڈیا بریفنگ میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اجلاس میں مجموعی صورت حال، داخلی اور خارجی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اتفاق کیا گیا کہ ملک اس وقت داخلی اور خارجی سنگین خطرات سے دوچار ہے۔انہوں نے کہا کہ اس جعلی حکومت کو ملک کے اندر اور باہر ہر محاذ پر مکمل طور پر ناکامی کا سامنا ہے، ملک کو داخلی مسائل کے ساتھ سنگین ترین خارجہ خطرات نے پاکستان کو اس وقت بدترین عالمی تنہائی کا شکار بنا دیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ افغانستان میں رونما صورت حال پر سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کو بیٹھنے کی اجازت دینے سے انکار سے ملک کا مفاد ہی تباہ نہیں ہوا بلکہ ملک کے وقار کو بھی تباہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم افغانستان کے حوالے سے بڑے واضح الفاظ میں حمایت کرتی ہے کہ افغان مسئلے کا حل فریقین کے باہمی مذاکرات اور مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک سیاسی اور مستحکم افغانستان ہی پاکستان کو مطلوب ہے۔اپوزیشن اتحاد کے سربراہ نے کہا کہ پی ڈی ایم کے قائدین نے بڑی تفصیل کے ساتھ داخلہ اور خارجہ حالات کا اظہار کیا اور اپنے خیالات اور خدشات کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کے اندر موجود اپوزیشن کو اس بارے میں اعتماد میں لیا جائے کیونکہ پارلیمنٹ کا ایک بڑا حقیقی اور اہم حصہ ملک کو درپیش اس صورت حال سے آگاہ نہیں ہے، کیوں ان سے حقائق چھپائے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اجلاس نے ملک میں بدترین مہنگائی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے، حکومت نے مہنگائی، بے روزگاری اور ظلم کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں، عوام کا جینا دو بھر ہوچکا ہے، ظالمانہ ٹیکسوں اور آئی ایم ایف کے شرائط پوری کرنے کے لیے عوام کے خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم نے اگلے اقدامات کا شیڈول دیا ہے، 21 اگست کو اسلام آباد میں اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوگا، جس میں کچھ تجاویز جو یہاں اجلاس میں پیش ہوئیں، اس پر تمام جماعتیں اپنی جماعت سے مشاورت کے بعد اکٹھی ہوں گی تاکہ اتفاق رائے سے تمام تجاویز کو عملی شکل دی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ 28 اگست بروز ہفتہ کراچی میں سربراہی اجلاس ہوگا اور اسٹیرنگ کمیٹی کی تجاویز پر غور کیا جائے اور فیصلے بھی صادر کیے جائیں گے۔پی ڈی ایم کے جلسے کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 29 اگست کو کراچی میں عظیم الشان اور فقیدالمثال جلسہ عام منعقد کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں آئینی حکمرانی مفقود ہے اور آئینی ادارے عضو معطل بنا دیے گئے ہیں، اظہار رائے کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے، میڈیا پر بدترین قدغنیں عائد ہیں، صحافیوں پر حملے ہو رہے ہیں، اس صورت حال پر شدید تشویش ظاہر کی گئی اور سخت الفاظ میں نوٹس لیا گیا اور مذمت کی گئی۔پی ڈی ایم کے سربراہ نے کہا کہ پی ڈی ایم کے جو بنیادی مقاصد ہیں، اس کے محور کو یقینی بنانا ہوگا کہ تمام ادارے اپنی اور قانونی حدود میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں کماحقہ نبھائیں، جو قانون کے مطابق ان کے ذمے سپرد کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اداروں کو اپنے دائرہ کار سے باہر انہیں اپنا کردار ختم کرنا چاہیے تاکہ ملک دوبارہ آئین کی پٹڑی پر چلنے کے قابل ہوسکے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت یکطرفہ طور پر انتخابی اصلاحات کی بات کی ہے اور کسی مشین کی بھی بات کی ہے، سنا یہ ہے کہ یہ مشین دھاندلی کرنے کا سب سے آسان ترین طریقہ ہے لیکن ہم واضح کردینا چاہتے ہیں یک طرفہ انتخابی اصلاحات یا اس طرح اقدامات مسترد کیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 25 جولائی 2018 اور 25 جولائی 2021 کشمیر کے انتخابات کے نتائج کو پی ڈی ایم مسترد کرتی ہے، عوام کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے نمائندے آزادی رائے سے چنیں، یہ حق کسی بھی بہانے عوام سے چھیننے نہیں دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک پر الیکش چور سلیکٹڈ حکومت مسلط ہے، ان کے ہر قسم کے انتخابی اصلاحات اور قانون سازی کو ہم مسترد کرتے ہیں۔سربراہ پی ڈی ایم نے کہاکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ نیب اور ایف آئی اے سیاسی ادارے بن چکے ہیں، اپنی آزاد اور غیر جانب دارانہ ساکھ قطعی طور پر کھو چکے ہیں اور صرف اپوزیشن کیخلاف انتقامی کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اظہار رائے کی آئینی آزادی اور میڈیا کے حقوق پر قدغنوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے صحافیوں پر ایف آئی اے کے ذریعے مقدمات مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں تمام مقدمات واپس لیے جائیں، میڈیا کو دبانے اور ان کی زبان بندی کے لیے غنڈہ گردی بند کی جائے۔انہوں نے کہا کہ آفتاب خان شیرپائو کو پی ڈی ایم کا سینئر نائب صدر چن لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پی ڈی ایم کو اپنی تمام تر توجہ اور توانائیاں ملک میں شفاف اور آزادارنہ انتخابات منعقد کرانے پر مرکوز کریں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں لوکل حکومت کو ختم کیا گیا تھا، جس کو سپریم کورٹ نے بحال کیا لیکن اب تک سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے جو واضح طور پر توہین عدالت اور قانون شکنی ہے۔سابق وزیراعظم نواز شریف کی واپسی کے حوالے سے ایک سوال پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ میرے نزدیک یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے، وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ نواز شریف پاکستان نہ آئیں اور یہ تاثر بھی دینا چاہتے ہیں کہ اب ان کو شاید مجبورا آنا پڑے گا اور یہ ان کے بس کی بات نہیں ہے۔اس موقع پر شہباز شریف نے بتایا کہ نواز شریف کا وہاں علاج جاری ہے، ان کے دل کے مرض کے حوالے سے علاج ضروری ہے اور ڈاکٹر چیک اپ کرتے ہیں اور مناسب وقت پر ان کی سرجری ہونی ہے، اس لیے وہ علاج کرائے بغیر پاکستان نہیں آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اس پر سیاست کر رہی ہے، انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ ایسے معاملے پر تین مرتبہ کے وزیراعظم کی صحت پر سیاست کرنا گری ہوئی حرکت ہے، جب نواز شریف کی اہلیہ بستر مرگ پر تھی تو بعض چینلز پر کس طرح کی گری ہوئی گفتگو کی جاتی تھی۔مولانا فضل الرحمن نے فواد چوہدری کی جانب سے ٹوئٹر ٹرینڈ پر جمعیت علمائے اسلام اور پاکستان مسلم لیگ (ن)پر لگائے گئے الزامات سے متعلق سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم سے زیادہ پاکستان کا نہ کوئی وفادار ہے اور نہ ہم کسی کو اپنے سے زیادہ وفادار سمجھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک کے چاچے مامے بننے والے اپنے گھروں میں آرام سے رہیں، ہماری نظر میں یہ ہم سے بہت پیچھے ہیں اور نہ ہی ہماری وفاداری کا مقابلہ کرسکتے ہیں، خدا نہ کرے ملک پر کوئی امتحان آئے تو پھر مورچے پر جمعیت یہ کے فقرا اور خاکسار کھڑے ہوں گے جبکہ موم بتی مافیا خدا جانے کہاں ہوں گے۔حکومت کے 5 سال مکمل ہونے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ 5 سال پورے کرنے یا نہ کرنا آپ بھی جانتے ہیں کہ ان کی پشت پر کون ہے، اصل قوت کیا ہے، جو لائے ہیں وہ ان کو باقی رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم جس طرح تسلسل کے ساتھ اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے میرے خیال میں مستقبل میں آنے والے انتخابات کو دھاندلیوں سے محفوظ کرے گا۔اس موقع پر شہباز شریف نے کہا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ پاکستان کی 73 سالہ تاریخ میں اس سے زیادہ ناکام وزیراعظم اور ناکام حکومت ہے جو ہر محاذ پر ناکام ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے، انہوں نے بجٹ کے موقع پر قوم کے ساتھ دروغ گوئی سیکام لیا اور غلط بیانی کی کہ ہم بجٹ کے بعد کوئی ٹیکس نہیں لگائیں گے لیکن صرف 2 مہینے نہیں گزرے تھے کہ ٹیکسوں کی بھرمار کردی گئی ہے۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ یعنی گاڑی سستی اور روٹی مہنگی، گاڑی سستی مگر پیٹرول، بجلی، دودھ، چینی اور ہر چیز غریب آدمی کی گرفت سے باہر ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح ان کے کرتوتوں کی وجہ سے خارجہ پالیسی کے محاذ پر جس طرح تنہائی کا شکار پاکستان ہوا ہے، میں نے اسے پہلے کبھی یہ حالت نہیں دیکھی۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جوبائیڈن ان کو فون کرتا نہیں اور مودی ان کا فون اٹھاتا نہیں ہے، یہ ان کی خارجہ پالیسی ہے۔پاکستان مسلم لیگ (ن)میں دو بیانیوں کے حوالے سے سوال پر شہباز شریف نے کہا کہ جہاں تک مفاہمتی پالیسی کی بات ہے تو اس پر میں دو انٹرویو میں وضاحت سے بتا چکا ہوں لیکن پی ڈی ایم اور مسلم لیگ (ن)صاف شفاف انتخابات چاہتی ہے، آئین اور قانون کی حکمرانی چاہتی ہے، یہ ہمارا مطالبہ اور سوچ ہے، اسی تحت ہماری سیاست چل رہی ہے۔دوسری طرف پیپلزپارٹی نے ن لیگ کو وزیراعظم اور وزیراعلی پنجاب کے عہدوں کی پیشکش کردی۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)کے رہنمائوں کے درمیان بیک ڈور رابطے شروع ہوگئے ہیں، اور ان رابطوں میں اہم ہیش رفت بھی ہوئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ایک بار پھر مرکز اور پنجاب میں ان ہائوس تبدیلی کے خواہاں ہیں، اور بیک ڈور رابطوں میں پیپلز پارٹی نے بلاول بھٹو زرداری کی خواہش کا اظہار بھی کردیا ہے۔پیپلزپارٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ رہنمائوں نے مسلم لیگ (ن)کو وزیراعظم اور وزیراعلی پنجاب کے عہدوں کی پیشکش کردی ہے، اور کہا ہے کہ اگر ن لیگ ساتھ دے تو مرکز اور پنجاب میں ان ہائوس تبدیلی ممکن ہے ، کیوں کہ ہمارے پاس مرکز اور پنجاب میں نمبرز پورے ہیں، اگر آپ ساتھ دیں تو ان ہاس تبدیلی کی صورت میں پیپلزپارٹی مرکز میں وزیراعظم اور پنجاب میں وزیراعلی ن لیگ کا قبول کرے گی۔پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ مرکز اور پنجاب میں ان ہائوس تبدیلی کے لئے تحریک انصاف کے ناراض اراکین اور حکومتی اتحادی پوری طرح تیار ہیں، حکومت اور اتحادیوں کے 25 سے زائد ارکان قومی اسمبلی اور پنجاب میں 31 ارکان اسمبلی ساتھ دیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لیگی رابطہ کاروں نے پیپلز پارٹی کی پیشکش پر وقت مانگ لیا ہے، اور کہا ہے کہ قیادت سے مشاورت کے بعد آپ کی پیشکش کا جواب دیں گے۔
پی ڈی ایم کا حکومت کیخلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان، پیپلزپارٹی کی ن لیگ کو وزیراعظم ، وزیراعلی پنجاب کے عہدوں کی پیشکش
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
