ہومپاکستانسینیٹ خزانہ کمیٹی کا اجلاس ،کمپنیزترمیمی بل اتفاق رائے سے منظور

سینیٹ خزانہ کمیٹی کا اجلاس ،کمپنیزترمیمی بل اتفاق رائے سے منظور

اسلام آباد،سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں 25مئی 2021کو منعقد ہ سینیٹ اجلاس سے بھیجے گئے ٹیکس قوانین(ترمیمی بل 2021)،25جون 2021کو سینیٹ اجلاس سے بھیجے گئے کارپوریٹ ری اسٹکچرنگ کمپنیز (ترمیمی بل 2021)کے علاوہ 25جون 2021کو منعقد ہونے والے سینیٹ اجلاس سے بھیجے گئے کمپنیز (ترمیمی بل 2021)کے بلوں کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر نے ٹیکس قوانین (ترمیمی بل2021 )کے بارے میں بتایا کہ یہ فنانس بل کے ساتھ پہلے زیر غو ر آچکا ہے اور یہ اس کا حصہ بن چکا ہے ۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کہا کہ یہ بل پہلے آرڈننس کے طور پر آیا تھا اور بجٹ میں پاس ہو چکا ہے لیکن چونکہ یہ بل ہمیں ہائوس کی جانب سے بھیجا گیا تھا اور اس کو ایجنڈے پر رکھنا ضروری تھا اور اس بل کی رپورٹ اب کمیٹی ہائوس میں پیش کرے گی لہذا کمیٹی اس معاملے کو ختم کر تی ہے ۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کمپنیز (ترمیمی بل 2021 ) کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔ سیکورٹیز ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے حکام نے بتایا کہ اس قانون میں پہلی ترمیم سٹارٹ اپ کی تعریف کو شامل کیا گیا ۔سینیٹر مصدق مسعود ملک اور سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ سٹارٹ اپ کی تعریف کو محدود نہ کیا جائے یہ نئے کاروبار کو شروع کرنے والوں کیلئے مشکلات کا باعث بنے گا۔ سینیٹر مصدق مسعود ملک نے کہا کہ مراعات تجارتی اور صنعتی پالیسی کے تحت دی جائیں ۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ایس ای سی پی سٹارٹ اپ اور پہلے سے جاری شدہ کمپنیز کی وضاحت فراہم کرے ۔ جس پر چیف ایگزیکٹو آفسیر ایس ای سی پی نے کہا کہ سٹارٹ اپ کو شامل کرنے کا مقصد رجسٹریشن میںمدد فراہم کرنا ہے اور سٹارٹ اپ کی تعریف کو مزید سخت نہ کریں اس سے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں ۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میںکمپنیز (ترمیمی بل2021 )کا شق وار جائزہ لیا گیا ۔ اراکین کمیٹی نے اپنی مثبت تجاویز پیش کیں جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمدطلحہ محمود نے کمپنیز (ترمیمی2021 ) کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا ۔ 25جون 2021کو سینیٹ اجلاس سے بھیجے گئے کارپوریٹ ری اسٹکچرنگ کمپنیز (ترمیمی بل 2021) کو کمیٹی اجلاس میں زیر غور لایا گیا ۔ متعلقہ حکام نے کمیٹی کو بل کے بارے میں تفصیلی طور پر آگاہ کیا ۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود نے بل پر تفصیلی غور کے متفقہ طور پر منظور کر لیا ۔ اجلاس میں عوامی عرضداشت جس میں ملتان سے تعلق رکھنے والے متاثرہ لڑکی کے ساتھ بینک فراڈ کے کیس کو زیر غور لایا گیا ۔ متاثرہ لڑکی نے کمیٹی کو بتایاکہ اس نے بینک میں اکائونٹ اوپن کرایا اور 30 لاکھ روپے کی رقم جمع کرائی اور اس کے علم میں لائے بغیر اس کے اکائونٹ سے 10 لاکھ روپے کی رقم جوبلی لائف انشورنش کی مد میں کٹوتی کر لی گئی ۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود نے اسٹیٹ بینک کو ہدایت جاری کیں کہ متعلقہ بینک منیجر کی تمام مراعات کو فی الفور بند کیاجائے اور اس معاملے کی رپورٹ آئندہ کمیٹی اجلاس میں پیش کی جائے ۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔