ایکواڈور نے وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج کو جو شہریت عطا کی تھی اسے منسوخ کر دیا ہے، حکام کے مطابق شہریت کے لیے ان کی درخواست میں بے ضابطگیاں اور غلطیاں تھیں۔ ایکواڈور کی سابقہ حکومت نے 2018 میں وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج کو شہریت دینے کا اعلان کیا تھا تاہم موجودہ حکومت نے اس فیصلے کو منسوخ کر دیا ہے۔ اسانج فی الوقت برطانیہ کی ایک جیل میں ہیں اور ایکواڈور کے محکمہ انصاف نے انہیں باقاعدہ طور پر اپنے فیصلے سے مطلع کر دیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایکواڈور کے حکام کا کہنا ہے کہ شہریت سے متعلق ان کی اصل درخواست میں متضاد باتیں، مختلف طرح کے دستخط اور فیس کی عدم ادائیگی جیسی متعدد خامیاں موجود تھیں۔اسانج کے وکیل کارلوس پوویڈا نے بتایا کہ یہ فیصلہ کسی مناسب ضابطے کے بغیر کیا گیا ہے اور اسانج کو اس کے لیے اپنا موقف پیش کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی تھی۔ان کا کہنا تھا، یہ اسی تاریخ کی بات ہے جب(اسانج کے بارے میں)یہ بتایا گیا کہ انہیں اپنی آزادی سے محروم کر دیا گیا اور جہاں وہ قید ہیں وہاں وہ صحت کے مسائل کے ساتھ ہی آزادی سے بھی محروم ہیں۔ شہریت کی اہمیت سے زیادہ یہ حقوق کے احترام کی بات ہے اور شہریت کی منسوخی کے عمل میں مناسب ضوابط کی پاسداری کا خیال رکھنے کی بات ہے۔”49سالہ آسٹریلین شہری جولیان اسانج کو 2010 اور 2011 کے دوران ہزاروں خفیہ امریکی دستاویزات کو منظر عام پر لانے سے متعلق متعدد الزامات کا سامنا ہے۔ امریکی حکام کا دعوی ہے کہ ان خفیہ دستاویزات کو عام کر کے اسانج نے امریکی قانون کے ساتھ ساتھ کئی افراد کی زندگیوں کو خطرات میں ڈال دیا تھا۔ امریکا نے خفیہ دستاویزات افشا کرنے کے الزام میں اسانج کی حوالگی کا مطالبہ کر رکھا ہے۔اسانج کے وکلا کا کہنا ہے کہ امریکی تحویل میں دینے کے بعد الزام ثابت ہونے کی صورت میں اسانج کو امریکی عدالت 175 برس تک قید کی سزا سنا سکتی ہے۔ دوسری جانب امریکی حکومت کا موقف ہے کہ عدالت کی جانب سے دی جانے والی سزا کی مدت محض چار سے چھ برس تک ہو سکتی ہے۔رواں برس جنوری میں برطانیہ کی ایک نچلی عدالت نے وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج کو امریکا کے حوالے نہ کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔ تاہم اس ماہ کے اوائل میں برطانوی ہائی کورٹ نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کو منظوری دے دی ہے۔
ایکواڈور نے وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج کی شہریت منسوخ کر دی
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
