اسلام آباد (ایڈیٹر انویسٹی گیشن)پاکستان میں تو پاسپورٹ کی پرنٹنگ مسائل سے دوچار ہے لیکن اوورسیز پاکستانیوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے ، اس حوالے سے ایک اہم ایشو سامنے آیا ہے کہ بیرون ممالک میں تعینات پاسپورٹ افسران کی مقررہ تعداد میں تعیناتی کا عمل سست روی کا شکار ہے جبکہ وزیراعظم پاکستان کی جانب سے منظور شدہ پالیسی کی دستاویز کے مطابق بیرون ممالک تعینات پاسپورٹ افسران کی مدت تین سال کی ہے جس کو کسی طور بھی توسیع نہیں دی جا سکتی۔
دستاویز کے مطابق نئی تعیناتی کا عمل سابق افسران و آفیشلز کی مدت ختم ہونے سے ایک سال قبل عمل میں لایا جانا ضروری ہے ، جس کو تاحال مکمل نہیں کیا جا سکا اور نا ہی سابق تعینات افسران و آفیشلیز کی مراعات کو روکا گیا ہے، وزیراعظم کی منظور شدہ پالیسی کے مطابق جن افسران و آفیشلز کی تعیناتی کی مدت مکمل ہو جائے ان کی مراعات و تنخواہیں فوری طور پر روکنے کے احکامات جاری کرنا بھی ضروری ہیں، اس حوالے سے ڈی جی امیگریشن و پاسپورٹ کے کوآرڈینیٹر عطا الرحمن واہلہ نے سب نیوز کو موقف دیتے ہوئے بتایا ہے کہ بیرون ممالک تعیناتی کا عمل شروع کردیا گیا ہے جس کا پراسس جاری ہے تاہم امر بھی قابل غور ہے کہ ڈائریکٹر ایڈمن نے کیوں اس پراسس کو بروقت مکمل نہیں کروایا۔
