اسلام آباد،اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے ٹی اینڈ ٹی ریلوے کراسنگ گیٹ پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ریلوے کو ٹی این ٹی لیول کراسنگ کھولنے اور وفاقی محتسب کے فیصلے پر عمل درآمد کا حکم دیتے ہوئے ریلوے کی درخواستیں خارج کردیں۔
ٹی اینڈ ٹی کی نئی لیول کراسنگ کھولی جائے اگر پاکستان ریلوے صدر پاکستان اور وفاقی محتسب کے دیئے گئے ،فیصلہ جات کی روشنی میں ٹی اینڈ ٹی کا ریلوے کراسنگ نہیں کھولے گی تو وہ توہین عدالت کی مرتکب ہو گی۔ گزشتہ روز 32 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے جاری کیا کے پیرا نمبر 20 اور 21 کے مطابق پاکستان ریلوے کو ہدایات دی گئی ہیں کہ چونکہ صدر پاکستان اور وفاقی محتسب کا فیصلہ حتمی ہو چکا ہے۔ اور ریلوے نے یہ فیصلہ جات کہیں بھی چیلنج نہیں کئے ہیں اور اب وہ تمام فیصلہ جات حتمی احیثیت اختیار کر چکے ہیں اور اب ان پر عملدآرامد ضروری ہو چکا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں ریلوے کی طرف سے دائر رٹ پیٹیشن پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی محتسب اور صدر پاکستان کے فیصلہ جات مکمل طور پر قابل عمل ہو چکے ہیں ۔ تو ریلوے اس معاملہ کو اب کیوں ہائیکورٹ میں زیر بحث لائی ہے۔ ٹی اینڈ ٹی کی نئی لیول کراسنگ کھولی جائے اگر پاکستان ریلوے صدر پاکستان اور وفاقی محتسب کے دیئے گئیفیصلہ جات کی روشنی میں ٹی اینڈ ٹی کا ریلوے کراسنگ نہیں کھولے گی تو وہ توہین عدالت کی مرتکب ہو گی اور ٹی اینڈ ٹی سوسائٹی ان فیصلہ جات کی روشنی میں وفاقی محتسب سے رجوع کر سکتی ہے کہ وفاقی محتسب اپنے دئیے گئے قوانین کے مطابق اپنے فیصلہ جات پر عملدرآمد کروائے بصورت دیگر ذمہ داران کے خلاف وفاقی محتسب کے قوانین کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے۔ عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ جی ایم پاکستان ریلوے اور انکی طرف سے دائر کی گئی تمام پیٹیشنز خارج کی جاتی ہیں اور وفاقی محتسب اور صدر پاکستان کا فیصلہ برقرار رکھا جارہا یے، سوسائٹی اور ممبران سوسائٹی کی طرف سے بیریسٹر سلمان ابوذر خان نیازی بیریسٹر سجیل شہریار خان سواتی ایڈوکیٹ سپرئم کورٹ ریاض حنیف راہی اور ایڈوکیٹ عبدالواحد قریشی نے عدالت میں کیس کی پیروی کی۔پاکستان ریلوے نے ٹی اینڈ ٹی سوسائٹی سے ڈیمانڈ نوٹ کے ذریعے ریلوے کراسنگ گیٹ کے اخراجات وصول کرنے کے بعد ریلوے کراسنگ گیٹ تنصیب کیا۔ پاکستان ریلوے نے کراسنگ گیٹ آپریٹ کرنے والے ملازمین کی پانچ سال کی پیشگی تنخواہیں بھی ٹی اینڈ ٹی سے وصول کیں۔ کراسنگ گیٹ کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد ریلوے کے بعض افسران نے ذاتی عناد کی بنیاد پر گیٹ کھولنے میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہو ئے وفاقی محتسب اور صدر مملکت عارف علوی کے فیصلے کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔
