ہومتازہ ترینآئی ایم ایف دبائو،بجٹ میں متعدد شعبوں کیلئے ٹیکس چھوٹ ختم کیے جانے کا امکان

آئی ایم ایف دبائو،بجٹ میں متعدد شعبوں کیلئے ٹیکس چھوٹ ختم کیے جانے کا امکان

اسلام آباد(ارمان یوسف ) وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2021-22 کے وفاقی بجٹ میں متعدد شعبوں کیلئے ٹیکس چھوٹ ختم کیے جانے کی تیاریاں کر لی گئی ہیں، زرعی آمدن کے منافع ، قبائلی علاقہ جات میں کاروبارپر انکم ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق آئندہ قومی بجٹ میں متعدد شعبوں کے لیے ٹیکس چھوٹ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔ ایف بی آر ذرائع کے مطابق بجٹ میں 20 ارب روپے سے زائد کی انکم ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو میڈیکل الائونس پرانکم ٹیکس چھوٹ ختم ہو سکتی ہے، اس کے علاوہ کارپوریٹ زرعی آمدن کے منافع پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے اور قبائلی علاقہ جات میں کاروبارپر انکم ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے، قبائلی علاقوں کے کاروبار کو 4 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دی گئی تھی۔ذرائع کے مطابق سوشل سیکیورٹی اداروں کے لیے انکم ٹیکس چھوٹ ختم کرنے اورایل این جی ٹرمینلزاورآپریٹرز کو دی گئی انکم ٹیکس چھوٹ ختم کرنیکی سفارشات بھی تیار کی گئیں ہیں۔وزارت خزانہ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والی شرائط میں آئندہ مالی سال کے بجٹ میں متعدد شعبوں کیلئے ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی شرائط بھی شامل ہیں، چند ماہ قبل بھی حکومت کی طرف سے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے متعدد شعبوں میں ٹیکس چھوٹ ختم کر دی گئی تھی ۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔