ہومپاکستانمقبوضہ کشمیر کی حیثیت بدلنے سے گریز کیا جائے، اقوام متحدہ کی بھارت کو وارننگ

مقبوضہ کشمیر کی حیثیت بدلنے سے گریز کیا جائے، اقوام متحدہ کی بھارت کو وارننگ

اسلام آباد اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکن بوزکر نے کہا ہے کہ متنازعہ علاقے کی حیثیت کو بدلنے سے گریز کیا جائے، فلسطین کے اہم معاملے پر بے عملی اقوامِ متحدہ اور سیکورٹی کونسل کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں تاریخی خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکن بوزکر کا کہنا تھا کہ کورونا وبا نے دنیا میں بڑے معاشرتی، سیاسی اور معاشی مسائل کو جنم دیا، جن کا حل مشترکہ لائحہ عمل سے ہی ممکن ہے، ان حالات میں ممبر ممالک کو اکھٹا رکھنا بڑا چیلنج تھا، کورونا ویکسین امیر اور غریب ممالک کی یکساں ضرورت ہے، کورونا وبا کے سدباب کے لیے پاکستانی حکومت نے جو کچھ کیا اس پر میں انہیں خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، پچھلے سال جب میں یہاں آیا تب بھی پاکستان کی صورتحال نسبتا بہتر تھی، پاکستانی حکومت کے اقدامات کے حوصلہ افزا نتائج آرہے ہیں، میں خوش ہوں کہ پاکستان مریضوں کی تعداد میں کمی لانے اور لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے موثرکام کر رہا ہے۔مسئلہ فلسطین، کشمیر، افغانستان ، کوڈ 19 اور اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے صدر وولکن بوزکر کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی نے پچھلے ہفتے فلسطین کی صورتحال پر میٹنگ بلائی تاکہ سیکیورٹی کونسل کی خاموشی اور ڈیڈلاک کا ازالہ کیا جاسکے، اس اہم معاملے پر بے عملی اقوامِ متحدہ اور سیکورٹی کونسل کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے، میں امید کرتا ہوں کہ سیکورٹی کونسل کی جانب سے بھی اس اہم اور ضروری مسئلہ پر متفقہ آواز سنائی دے گی۔صدر جنرل اسمبلی نے کہا کہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے نتیجے میں سینکڑوں فلسطینیوں کی جانیں چلی گئیں، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے اس ملاقات کے لیے وقت نکالا اور فلسطینیوں کے حقوق کے لیے مضبوط مقف اور حمایت کا اظہار کیا۔وولکن بوزکر کا کہنا تھا کہ اس وقت مذاکرات کی فوری ضرورت ہے تاکہ اسرائیلی قبضے کو ختم کیا جاسکے اور دو خود مختار ریاستوں کا قیام عمل میں آسکے، جو باہم امن سے رہیں اور 1967 سے قبل کی سرحدوں میں ہوں اور یروشلم دونوں کا دارالحکومت ہو، میں یقین دلاتا ہوں کہ مشرقِ وسطی میں امن کی بحالی تک یو این جنرل اسمبلی آرام سے نہیں بیٹھے گی۔صدر جنرل اسمبلی نے کہا کہ مجھے جموں و کشمیر کی صورتحال کا بھی بخوبی علم ہے، مجھے ادراک ہے کہ ایک عام پاکستانی کشمیر کے حوالے سے کیا محسوس کرتا ہوگا کہ جب فلسطین کے حوالے سے اس کے جذبات اس قدر شدید ہیں، جنوبی ایشیا میں امن و استحکام اور خوشحالی کا دارومدار پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی بحالی پر ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ تنازعہ کشمیر کا حل نکالیں۔صدر جنرل اسمبلی کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی قرداردادو کی روشنی میں میں نے ہمیشہ فریقین پر زور دیا ہے کہ زمینی حقائق کو تبدیل نہ کیا جائے، متنازعہ علاقے کی حیثیت کو بدلنے سے گریز کیا جائے، تنازعہ کشمیر بھی اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ مسئلہ فلسطین ہے، بطور صدر جنرل اسمبلی میں بھارت اور پاکستان پر زور دیتا ہوں کہ اس مسئلہ کے پر امن حل کے راستے پر چلیں۔وولکن بوزکر نے مزید کہا کہ افغانستان میں امن کی بحالی بھی اشد ضروری ہے، پاکستان نے کئی ملین افغان مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے، چالیس سال سے عالمی برادری کی طرف سے خاطر خواہ امداد نہ ہونے کے باوجود پاکستان نے افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھایا، میں پاکستانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے مصیبت کی گھڑی میں افغان کمیونٹی کو پناہ دی، پاکستان اور افغانستان کو آپس میں جدا نہیں کیا جاسکتا۔افغانستان میں امن، پاکستان میں امن اور علاقائی ترقی کے لیے لازم ہے، میں پاکستانی قیادت کو داد دیتا ہوں کہ جس نے افغانستان میں امن کی بحالی اور مسئلے کے حل میں اپنا مثبت کردار ادا کیا۔بعد ازاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر کے طور پر میں غیر جانبدار ہوں، لیکن فلسطین جیسے مسئلے پر شاید ہی کوئی غیر جانبدار رہ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘مسئلہ فلسطین کا حل مذاکرات کی طرف فوری واپسی ہے جس کا مقصد قبضے کا خاتمہ اور دو ریاستوں کا قیام ہے، جنرل اسمبلی کے پہلے اجلاس کے بعد سیز فائر پہلا مقصد ہے لیکن آخری نہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘میں اس بات سے متفق ہوں کہ فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ ایک جیسا ہے اور یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ مسئلہ جموں و کشمیر کو کبھی زیادہ اہمیت نہیں دی گئی، لہذا یہ پاکستان کی خصوصی ذمہ داری ہے کہ وہ زیادہ مضبوطی سے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں پیش کرے۔صدر جنرل اسمبلی نے کہا کہ ‘افغانستان کا تنازع پرامن طور پر حل ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ اس کے نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں اثرات ہیں جبکہ افغان امن عمل میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہتے ہیں’۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔