اسلام آباد،ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز پاکستان نے حکومت سے بروقت نیا سمسٹر شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سمسٹر خزاں میں مزید تاخیر سے طلبا کی تعلیم کا ناقابل تلافی نقصان ہوگا، حکومتی فیصلہ سے طلبہ کو ان کے تعلیمی سفر میں خلل ڈالنے اور ان میں مزید ذہنی تنائو پیدا ہونے کے معاملے میں ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔
تفصیلات کے مطابق چئیرمین ایپ سپ پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبد الرحمان نے حکومت کو خط ارسال کردیا۔ خط میں کہا ہے کہ ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز آف پاکستان پچاسی نجی شعبے کی یونیورسٹیوں کی ایک منتخب نمائندہ تنظیم ہے ،جس میں اکتیس علاقائی کیمپس ہیں جن میں چالیس فیصد سے زیادہ طلبہ پورے پاکستان میں اعلی تعلیم کے شعبے میں ہیں، دوسرے شعبوں کی طرح کرونا کی جاری تیسری لہر نے تعلیم کے شعبے کو بری طرح متاثر کیا ہے،خزاں سمسٹر برائے سال دو ہزار اکیس کے آغاز میں تاخیر سے طلبہ اور تعلیمی اداروں کا ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔ چیئرمین ایپ سپ پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمن نے خط میں مزید کہا کہ نجی شعبے کی یونیورسٹیوں کا پہلے سے پریشان حال مالی نظام تباہ ہونے والا ہے جو وبائی امراض کے دوران حکومت کی طرف سے کسی خاص ریلیف کے بغیر خود ہی مشکل سے بچ رہا ہے۔ خزاں سمسٹر میں تاخیر سے اساتذہ اور عملے کی تنخواہوں سمیت آپریشنل اخراجات پورا کرنا ناممکن ہوگا ۔بذریعہ خط استدعا کی گئی ہے کہ موسم خزاں کے سمسٹر میں داخلے کیلئے تاخیر نہیں کی جا سکتی۔پرائیویٹ یونیورسٹیوں کو تعلیمی شیڈول کے مطابق خزاں سمسٹر کیلئے داخلے کھولنے کی اجازت دی جا ئے۔اس حوالے سے بہترین بین الاقوامی طریقہ کار کو بھی اختیار کیا جا سکتا ہے، یہ قدم طلبہ کو کرونا کی تیسری لہر اور ذہنی تنائو سے بچانے میں بھی معاون ثابت ہو گا۔ چیئرمین ایپ سپ پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمن نے کہا حکومت کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں۔ حکومت موسم خزاں سمسٹر کیلئے بروقت داخلے شروع کرنے کی تجویز پر غور کرے۔
