ہومپاکستان40سال سے افغان مہاجرین کی فراخدلی سے میزبانی پر امریکی سفیر کا پاکستان کیلئے اظہار تشکر

40سال سے افغان مہاجرین کی فراخدلی سے میزبانی پر امریکی سفیر کا پاکستان کیلئے اظہار تشکر

پاکستان میں متعین امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے چالیس سال سے زیادہ عرصہ تک افغان مہاجرین کی فراخدلی سے میزبانی کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اِس قابل قدر مقصد کی انجام دہی میں اپنی حمایت جاری رکھے گا۔ 2022سے لیکر اب تک ریاستہائے متحدہ امریکہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین اور ان کی اپنے اپنے علاقوں میں میزبانی کرنے والی پاکستانی آبادیوں کی انسانی ہمدردی کی بنیادپر امداد کی مد میں کروڑ لاکھ ڈالر یعنی ارب روپے فراہم کر چکا ہے۔ صرف مالی سال میں امریکہ نے پناہ گزینوں اور ان کی میزبان برادریوں کو تقریباچھ کروڑ ڈالریعنی تیرہ ارب روپے سے زیادہ کی امداد فراہم کی۔
یہ امریکی امداد خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والی آبادیوں میں زیادہ سے زیادہ افغانی اور پاکستانی بچوں کا اسکولوں میں داخلہ یقینی بنا رہی ہے جبکہ پاکستان کے صحت مراکز میں بہتری اور افغان بستیوں کے مکینوں میں غذائیت کی کمی کو پورا کرنے کی کوششوں میں بھی معاونت میسر ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ پناہ گزینوں اور میزبان علاقوں کے باسیوں کے لیے روزگار کی سرگرمیوں، پانی، صفائی ستھرائی کے ڈھانچہ میں بہتری واقع ہو رہی ہے جبکہ کورونا وبا کے صحت اور معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کو زائل کرنے میں بھی مدد مل رہی ہے۔
پاکستان میں یو این ایچ سی آر کے نمائندہ نوریکو یوشیدا نے افغان پناہ گزینوں کے لیے امریکی عوام کی فراخدالانہ اور ہمدردانہ امداد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امریکی شہریوں کی معاونت کی بددولت ہی اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارہ گزشتہ سال پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد پاکستانی شہریوں اور افغان پناہ گزینوں کے لیے بروقت رسد کے ساتھ فوری طور پر میدان میں اترنے کے قابل ہوا ۔ مزید برآں، امریکہ کی طرف سے نمایاں امداد کے یو این ایچ سی آر کیدیگر تمام پروگراموں پر جیسے لڑکیوں کی رسمی اور غیر رسمی تعلیم تک رسائی یقینی بنانے، صوبائی ہسپتالوں میں ہنگامی ضروریات کے سامان کی دستیابی اور ہنرمندی اور پیشہ ورانہ تربیت کی سرگرمیوں پر مثبت اثرات مر تب ہو رہے ہیں ۔
اس موقع پر یونیسف پاکستان کے نمائندہ عبداللہ فاضل نے کا کہنا تھا کہ یونیسیف بھی امریکی معاونت کی وجہ سے ہی افغان مہاجرین اور میزبان پاکستانی آبادیوں کے مکینوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے اور ہم نے غذائیت کی کمی کا شکار بچوں کی دیکھ بھال ، نوزائیدہ بچوں اور ماں کی جان بچانے، صاف پانی کی فراہمی اور صفائی ستھرائی کے مناسب انتظامات یقینی بنانے پر کام کیا ہے ۔ یہ ہی نہیں یونیسیف نے لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی کے انتظامات بھی کیے ہیں تا کہ وہ اپنے معاشروں میں مستحکم ترقی کے لیے کردار ادا کر سکیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔