Tuesday, February 17, 2026
ہومتازہ ترینتاحیات نااہلی:سپریم کورٹ سماعت میں سمیع اللہ بلوچ کیس کیا ہے؟

تاحیات نااہلی:سپریم کورٹ سماعت میں سمیع اللہ بلوچ کیس کیا ہے؟

سمیع اللہ بلوچ بمقابلہ عبدالکریم نوشیروانی سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک تاریخی فیصلہ ہے جس میں عدالت نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت انتخابی نااہلی تاحیات ہے۔

سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

2017 میں پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ نے ملک کی سیاسی تاریخ کا رخ بدل کر رکھ دینے والے تاریخی فیصلے میں کہا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت دی گئی نااہلی تاحیات ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل 5 رکنی بینچ نے یہ فیصلہ متفقہ طور پر جاری کیا تھا۔

پاناما پیپرز کیس میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیے جانے کے بعد نواز شریف کو غیر معینہ مدت کے لیے سرکاری عہدے پر فائز رہنے سے روک دیا گیا تھا۔ جب کہ اس وقت تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کو بھی سپریم کورٹ کے ایک اور بینچ نے اسی شق کے تحت نااہل قرار دیا تھا۔

فیصلے کے مطابق نواز شریف اور جہانگیر ترین دونوں کو اس وقت تک عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دیا گیا جب تک کہ ان کے خلاف عدالت کے متعلقہ فیصلے درست نہیں ہو جاتے۔ اس وقت جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی تاحیات ہے لیکن میرے کیس میں اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔

فیصلے کے تحت مستقل نااہلی

اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے فیصلہ سنائے جانے سے قبل ریمارکس دیے کہ عوام اچھے کردار کے رہنما ئوں کے مستحق ہیں۔ جس کے بعد جسٹس عمرعطا بندیال نے فیصلہ پڑھ کرسنایا، جس میں کہا گیا تھا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت کسی بھی رکن پارلیمنٹ یا سرکاری ملازم کی نااہلی مستقل ہوگی۔ ایسا شخص الیکشن نہیں لڑ سکتا یا پارلیمنٹ کا رکن نہیں بن سکتا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت پارلیمنٹ کے انتخابات کے لیے امیدوار کی اہلیت پر عائد پابندی ایماندار، راست باز، سچے، قابل اعتماد اور دانشمند منتخب نمائندوں کے لیے عوامی ضروریات اور مفاد عامہ کو پورا کرتی ہے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت انتخابات کے لیے امیدوار کی مستقل نااہلی آئین کے آرٹیکل 17 (2) کے تحت اس کے بنیادی حق کو من مانی، حد سے زیادہ یا غیر معقول حد سے کم کرنا نہیں ہے، بلکہ امیدوار کو خود کو بے گناہ ثابت کرنے کے لئے منصفانہ موقع فراہم کرتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت اہلیت پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی نااہلی ایک مستقل پابندی عائد کرتی ہے، جو اس وقت تک نافذ العمل رہتی ہے جب تک آئین کے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت کسی ایک مجرمانہ طرز عمل کے نتیجے کی حمایت کرنے والا اعلانیہ فیصلہ نافذ رہتا ہے۔

عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت جعلی ڈگری رکھنے پر نااہلی کی مدت کو چیلنج کرنے والی تمام 17 اپیلوں اور درخواستوں کو ہر معاملے کے متعلقہ حقائق اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس فیصلے میں طے شدہ قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کے لئے مناسب بینچوں کے سامنے مقرر کیا جائے۔

ہم صرف آئین کی تشریح کر سکتے ہیں

فیصلے میں اضافی نوٹ لکھنے والے بینچ کے رکن جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ آئین کے آرٹیکل 63 کے بعض ذیلی آرٹیکلز میں نااہلی کی مدت کا تعین کیا گیا تھا، لیکن آرٹیکل 62 (1) (ایف) میں ایسی شق نہیں ملتی کیونکہ آئین سازوں نے ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

درخواست گزاروں کے کچھ وکیلوں کی جانب سے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے نتیجے میں تاحیات پابندی کے بارے میں تشویش کا جواب دیتے ہوئے جسٹس سعید نے کہا کہ اس طرح کے دلائل عدالت کے سامنے پیش کرنے کے بجائے پارلیمنٹ میں ہونے کے لئے زیادہ مناسب ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ اس معاملے کا یہ پہلو ستم ظریفی ہے کیونکہ ہم سے پہلے کئی افراد کسی نہ کسی وقت مجلس شوری کے رکن تھے یا رہ چکے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ انہوں نے ترامیم منظور کی ہوں جو اب ان کی راہ میں حائل ہیں۔ جسٹس عظمت شیخ نے زور دے کر کہا کہ وہ صرف آئین کی تشریح کر سکتے ہیں، اس میں ترمیم یا تبدیلی نہیں کر سکتے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔