pak german deligation 14

افغانستان میں انسانی حقوق کا خیال رکھا جانا چاہیے، وزیرخارجہ

اسلام آباد،وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اشرف غنی کی حکومت افغانستان میں سب اچھا ہے کی تصویر پیش کررہی تھی جو جھوٹ تھا یہی وجہ ہے کہ وہ فوری طورپرسنبھل نہ سکے اورگرگئے۔منگل کو جرمن وزیرخارجہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان کے مسئلے پر جرمن وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک گفتگو ہوتی رہی ہے، دورے سے افغانستان کی حقیقی صورتحال کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملے گا، افغانستان میں انسانی حقوق کا خیال رکھا جانا چاہیئے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اشرف غنی حکومت افغانستان میں سب اچھا ہے کی تصویرپیش کررہی تھی، حقیقت ہے کہ وہ غلط بیانی اورجھوٹ بول رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فوری طورپرسنبھل نہ سکے اورگرگئے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ حتی کہ جب طالبان کابل میں داخل ہوئے تو انہیں کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، طالبان قیادت کے حالیہ بیانات مثبت اورحوصلہ افزا ہیں، جلد طالبان اپنی خواہشات کا اعلان کردیں گے۔ عالمی برادری زمینی حقائق کا اندازہ کرکے مستقبل کے راستے کا انتخاب کرے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان افغانستان سے مسلسل رابطہ اور انگیجمنٹ پرزوردیتا ہے۔ طالبان پر اعتماد ان کے اپنے بیانات کے حقیقی نفاذ سے ظاہرہوگا۔ انہیں انسانی حقوق، عالمی اقدارکا احترام کرنا ہوگا۔دوسری جانب جرمن وزیرخارجہ ہاییکو ماس نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ پاک جرمن تعلقات کی سترہویں سالگرہ اورافغانستان کی صورتحال پر ہم یہاں موجود ہیں، ہم نے انخلا کے حوالے سے گذشتہ دنوں میں بہت سی عالمی کوشیشں دیکھی ہیں، پاکستان نے اس حوالے سے اپنا کردار ادا کیا ہے جس کے لیے ہم شکرگزار ہیں۔ پکستان افغانستان کا ہمسایہ ہونے کے ناطے اثرات دیکھ رہا ہے۔ پاکستان افغانستان کا ہمسایہ ہونے کے ناطے اثرات دیکھ رہا ہے، ہم نے افغانستان کے حوالے سے 500 ملین کا وعدہ کیا ہے۔جرمن وزیرخارجہ نے کہا کہ گذشتہ ہفتے سے اب تک ہم پاکستان سے جرمن شہریوں کے انخلا پر رابطہ میں ہیں۔ ہمیں علم ہے کہ اس وقت بھی افغانستان میں جرمن شہری موجود ہیں، ہم ان کے انخلا کے لیے پاکستان سے رابطہ جاری رکھیں گے۔ جرمن وزیرخارجہ نے کہا کہ طالبان کی جانب سے کیے گئے وعدوں کا آنے والے دنوں میں علم ہوگا، چند روزمیں طالبان اپنی حکومت کا اعلان کریں گے۔ تمام افغان عوام طالبان کی حکومت کی حمایت نہیں کرتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں