68

قابلِ فخر امجد ندیم

آپ امجد ندیم سے متعلق جاننے سے پہلے لبنان کے صدر رفیق بہاؤ الحریری سے متعلق کچھ معلومات ملاحظہ کیجئے رفیق بہاؤ الدین الحریری لبنان کے وزیراعظم تھے جو ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے زندگی کے 12سال مالٹے کے کاروبار پہ گزاری بعد ازاں لبنان چھوڑ کر سعودی عرب منتقل ہوئے جہاں انہوں نے تعمیرات کے شعبے سے وابستہ ہوگئے اللہ نے ان پر خاص کرم کی اور یہ کمپنی دن رات ترقی کے منازل طے کرتا رہا بلکہ اس کمپنی کی وجہ سے الحریری سعودی عرب کے شاہی خاندان تک رسائی بھی حاصل کی اور الحریری چند سال بعد سعودی عرب اس وقت کے شاہ خالد بن عبدالعزیز کے دوستوں میں شامل ہوگئے اور شاہ خالد بن عبدالعزیز کا محل بھی الحریری نے صرف 8 ماہ میں تعمیر کیا جو نہ صرف مختصر مدت میں تعمیر ہونے والی عمارت بنی بلکہ ایک معمول ٹھیکدار کی دلچسپی اور ہمت کا عملی ثبوت بھی ۔انہوں نے اس کمپنی کی کامیابی کے بعد بینکنگ اور رئیل اسٹیٹ سمیت کئ بڑے شعبوں میں قدم رکھا اور ترقی نے ان کی قدم چومے بلاآخر وہ 48 برس کی عمر میں لبنان کے وزیراعظم منتخب ہوگئے الحریری 5 مرتبہ مسلسل لبنان کے وزیراعظم رہے بعد ازاں انہوں نے 2005 میں وزارت عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا 14فروری 2005 کو ایک بم دھماکہ میں متعدد ساتھیوں سمیت جان بحق ہوگئے قارین کرام الحریری کے چند الفاظ آج بھی ان کی یاد کو تازہ کر دیتی ہیں انہوں نے کہا تھا کہ میں جب دنیا سے کوچ کر جاوں گا میرا دولت میرا کفن میلا ہونے سے پہلے میرے اولاد میں تقسیم ہوگی لیکن میری خدمت باقی رہے گی اسے کوئی ختم نہیں کرسکے گا ان کا کہنا تھا کہ دولت عارضی لیکن خدمت مستقل ہوتی ہے خدمت تقسیم کرنے سے بڑھ جاتی ہے بلکہ اس کا مثال کجھور کی درخت جیسا ہے جس سے صدیوں تک کجھور حاصل کیا جاتا ہے جبکہ دولت کاغذ کا ٹکڑا ہے جو ذرا سی بارش یا آگ کی چنگاری سے جل کر راکھ ہو جاتی ہے ۔
قارئین کرام..!
یہ ایسے انسان کا قول ہے جس نے دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا تھا جاگیر دولت سب کچھ پایا تھا لیکن اس کے باجود انہوں نے ان سب پر فلاح و بہبود اور نیکی کو شیوا مانا امجد ندیم فاؤنڈیشن بھی اس کہانی کا مصداق ہے امجد ندیم صاحب دوران طالب علمی میں جسمانی طور پرمعذور ہوگئے جس کی وجہ سے انہیں ویل چیئر کا سہارہ لینا پڑا لیکن ان کی بہادری اور شجاعت پسندی نے تندرست و توانا لوگوں کے لئے مثال قائم کردیا ہے انہوں نے بجائے ویل چیئر میں بیٹھ کر زندگی گزارنے پر فلاح و بہبود اور انسانیت کی خدمت کو ترجیح دی انہوں نے سب سے پہلے گلگت بلتستان بھر کے خصوصی افراد کی حقوق کے لیے جنگ لڑی انہیں ویل چیئر سمیت دیگر ضرورت کی چیزیں مہیا کی اس کے بعد جب کووڈ نے نظام زندگی کا پہیہ جام کردیا تو کووڈ کے دوران سینکڑوں افراد تک کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر ضروریات زندگی پہنچانے میں اس وقت کی حکومت کے پیش پیش رہے جہاں انسانی زندگی کو مشکل میں پایا بلاتاخیر ان کی مدد کو پہنچے صوبائی دارالحکومت گلگت سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر سلطان آباد کے سنگو داس کے لوگوں کی جس مشکل وقت میں انہوں نے مدد کی اس سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کرسکتا چند دن قبل جب سیلاب نے وہاں غذر اور دیگر علاقوں میں تباہی مچا دی تو اس مرتبہ بھی امجد ندیم بھائی نے ان کی مدد کو پہنچے ان کے لئے راشن ادویات اور خیموں کا بندوست کیا جو کہ ہم جیسے تندروست لوگوں کی زمے داری بنتی تھی آج میں خود کو جسمانی طور پر تندرست کہتے ہوئے شرم محسوس کرتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے مجھے مکمل طور پر تندرست بنایا اچھی صحت دی لیکن میں انسانیت کی خدمت کے لیے کوشش تک نہیں کی جو کہ مجھے کرنا چاہیے تھا یا میری ذمے داری بنتی تھی ایک خاص شخص جو خود مدد اور سہارے کا طالب ہے نے انسانیت کی خدمت کے لئے خود کی تکلیف قربان کردی پر ہم دیکھتے رہے آج میں ایک سوشل میڈیا صارف کی حیثیت سے آپ سب سے ایک گزارش کررہا ہوں کہ آپ امجد ندیم فاؤنڈیشن پر اعتماد کریں اور اپنی اطیات امجد ندیم فاؤنڈیشن کو دے دیجئے میں امجد ندیم کو ذاتی طور پر جانتا ہوں امجد بھائی ایک درد اور احساس کرنے والا شخص ہے انہوں نے زندگی کی اتار چڑھاؤ کو نزدیک سے دیکھا ہے ان کو مشکل اور کرب حالات کا احساس ہے انسانیت کی خدمت کس قدر افضل ہے وہ امجد بھائی جانتا ہے لہذا مخیر حضرات سے میری گزارش ہے کہ آپ امجد ندیم بھائی کی مدد کریں اور ان پر اعتماد بھی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں