vana 15

وانا:غیر تربیت یافتہ مزدورں کی وجہ سے چلغوزہ کو نقصان کا خدشہ

وانا (حفیظ وزیر وانا)جنوبی وزیرستان تحصیل برمل کاہیڈ کوارٹر سرا کنڈہ قدرتی جنگلات چلغوزہ سے مالا مال ہیں، سرا کنڈہ کرے خیل قبیلہ اور اتمان خیل قبیلہ کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، سرا کنڈہ کے کئی مقامات پر ہزاروںٹن کے حساب سے چلغوزہ پیدا ہوتاہے لیکن بدقسمتی سے چلغوزہ کے درختوں پر کام کرنے والے مزدور جدید آلات سے ہر سال مقامی این جی او’ وانا ویلفئیرایسوسی ایشن’ محروم کر دیتی ہے ،وانا ویلفئیرایسوسی ایشن بظاہر ورکشاپس میں ایسے لوگوں کو بھیج دیتے ہیں جنکا قدرتی جنگلات سے دور کا تعلق نہیں ،چلغوزہ کے درختوں پر کام کرنے والے ننگے پاوں ربڑ کے چپلوں اور ربڑ کے بوٹوں میں درختوں پر چڑھتے دیکھا ،گلوز اور جدید آلات سے محروم اور باقاعدہ ٹرینینگ سے محروم طبقہ دیکھنے کو ملا ، مزدوروں کو رات بسر کرنے کے لئے کوئی ٹینٹ دیکھنے کو نہیں ملا ،کھانے پینے کے لئے برتن میسر نہیں تھے ،محکمہ جنگلات چلغوزہ کے من پر کئی ہزار ٹیکس تو لگا لیتا ہے لیکن اس قیمتی پیدوار کو مارکیٹ تک پہنچانے والے مزدوروں کو اکثر غیر تربیت یافتہ پایا کیونکہ چلغوزہ کے درختوں پر اگلے سال کی فصل بھی موجود ہوتی ہے جن سے اکثر مزدور ناواقف ہوتے ہیں جو کہ قومی خزانے کو بیک وقت کافی نقصان پہنچنے کے خدشات موجود رہتے ہیں ،اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ جنگلات مزدوروں کی تربیت اور آلات مہیا کریں اور وانا ویلفئیرایسوسی ایشن کی بجائے مقامی کرے خیل قبیلہ اور اتمان خیل قبیلہ کے نوجوانوں کو ورکشاپ میں شامل کرنے کی سعی کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رائے کا اظہار کریں