ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی زاہد اکرم درانی سے بدھ کے روز ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے پاکستان کیلئے کنٹری ہیڈ ڈاکٹر پلیتھا نے پارلیمنٹ ہاوس میں ملاقات کی ۔ملاقات میں پاکستان میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات اور صحت عامہ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوے ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ حالیہ تباہ کن سیلاب کے دوران پاکستان کو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ۔انہوں نے کہا کہ سیلابوں کے دوران حکومت کی پہلی ترجیح سیلاب میں گہرے افراد کو ریسکیو کرنا اور انہیں محفوظ مقامات تک منتقل کرنا تھا جس کے لئے ملک کے تمام ادارے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی نگرانی میں مصروف عمل رہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کئے اور ریسکیو اور ریلیف آپریشن کا خود جائزہ لیا ۔ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ ابھی تک سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں سیلاب کا پانی کھڑا ہے جس سے ملیریا ، ڈینگی ، ہیضہ اور دیگر متعددی امراض کے پھیلنے کا خطرہ ہے جو ایک اور انسانی المیہ کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت دوست ممالک ، WHO اور دیگر فلاحی اداروں کی تعاون سے ان علاقوں میں صحت کی سہولیات فراہم کرنے کی بھرپور اقدامات اٹھا رہی ہے تاہم سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں متعددی بیماریوں کی مکمل روک تھام کیلئے مزید مربوط اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے ۔ڈپٹی اسپیکر نے جنوبی اضلاع میں صحت کی سہولیات کا ذکر کرتے ہوے کہا کہ ضلع بنوں جنوبی اضلاع کا مرکز ہے اور دیگر اضلاع کے عوام علاج معالجے کی عرض سے بنوں کے ہسپتالوں کو استعمال کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ضلع بنوں میں تین بڑے ہسپتال ہیں جن میں خلیفہ گل نواز میموریل ہسپتال بنوں ، وومن ہسپتال بنوں اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بنوں شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جنوبی اضلاع کیلئے پولیو ، کورونا اور دیگر ویکسین بھی ان ہی ہسپتالوں میں اسٹور کی جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی طویل لوڈ شیدڈنگ کی وجہ سے نا صرف ان ہسپتالوں میں موجود مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے
بلکہ اسٹور کی گئی ویکسین بھی ضائع ہو جاتی ہے ۔انہوں نے WHO کے کنٹری ہیڈ کو بنوں کے ہسپتالوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے تعاون کرنے کا کہا۔انہوں نے سیلاب کے دوران متاثرین کو طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے WHO کے کردار کو سراہا ۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے پاکستان کیلئے کنٹری ہیڈ ڈاکٹر پلیتھانے سیلاب کے دوران ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوے WHO کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں صحت کی سہولیات کیلئے کئے گئے اقدامات سے آگاہ کیا ۔انہوں نے بنوں کی ہسپتالوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے اور دیگر بنیادی صحت سہولیات کی فراہمی کیلئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ۔انہوں نے سیلاب کے دوران وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور عوامی نمائندوں کی سیلاب متاثرین کی بروقت مدد کو سراہا ۔
ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سے ڈبلیو ایچ او کے پاکستان کیلئے کنٹری ہیڈ کی ملاقات
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
