پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ آرمی چیف نے چین کا اہم دورہ کیا، چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سی پیک کی سکیورٹی پاک فوج کو دی گئی، سی پیک کی سکیورٹی میں کوئی کمی آنے نہیں دی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کی صحت بہت خراب ہے، اللہ انہیں صحت دے، لیڈرشپ کا مقف ہے کہ پرویز مشرف کو واپس آجانا چاہیے، پرویز مشرف کی واپسی کا فیصلہ ان کی فیملی نے کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کو واپس لانے کیلئے ان کے خاندان سے رابطہ کیا گیا، فیصلہ ان کی فیملی کو کرنا ہے۔ پرویزمشرف کی فیملی کے جواب کے بعد انتظامات کیے جاسکتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ آرمی چیف کا دورہ چین بہت اہم تھا، پاکستان چین کے تعلقات بہت اسٹریٹجک نوعیت کے ہیں، پاک چین تعلقات خطے میں امن کیلئے اہم ہیں، سی پیک منصوبوں کی سکیورٹی میں کوئی کمی نہیں آنے دی، سی پیک کی سکیورٹی خصوصی طور پر پاک فوج کو دی گئی، سی پیک منصوبوں کی سکیورٹی پر 24 گھنٹے کام کیاجارہاہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ آرمی چیف نے دورے میں چینی صدر سے بھی ملاقات کی، چین نے پاکستان کی دفاعی قوت بڑھانیمیں اہم کردار ادا کیا، جب بھی ہر سال بجٹ پیش ہوتا ہے تو دفاعی بجٹ پربحث ہوتی ہے، دفاعی بجٹ تھریٹ پرسیپشن، چیلنجز، تعیناتی کی نوعیت، وسائل کو دیکھتے ہوئے رکھا جاتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کا بڑھتا ہوا دفاعی بجٹ اپنے سامنے رکھ لیں، 2020 سے پاکستان فوج نے اپنے بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا، مہنگائی کی شرح سے دیکھیں تو دفاعی بجٹ کم کیاگیا ، مسلح افواج کا بجٹ جی ڈی پی کی شرح کے لحاظ سے مسلسل نیچے جا رہا ہے، ہم نے 100 ارب روپے بجٹ کم لیا ہے، ہم نے یوٹیلیٹی بلز کی مد میں اخراجات کو محدود کیا ہے، پیٹرول اورڈیزل کی بچت کیلئے غیر ضروری نقل و حرکت کم کردی گئی ہے۔
