اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )قومی اسمبلی کا غیر معمولی اجلاس وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر کارروائی کے بغیر پیر 28 مارچ تک ملتوی کردیا گیا۔اسپیکر اسد قیصر کی صدارت شروع ہوا جس میں اپوزیشن نے بھرپور شرکت کی۔اجلاس میں اپوزیشن کے 159ارکان شریک ہوئے۔وزیراعظم عمران خان اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔خیال زمان ، سابق صدر رفیق تارڑ سمیت وفاقی وزرا کے رشتہ داروں کے ایصال ثواب کے لیے دعا کی گئی۔وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے ایوان میں دعا مغفرت کرائی، قومی اسمبلی کا اجلاس پیر 4 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کا 15 نکاتی ایجنڈا جاری کیا گیا ہے جس میں وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی شامل کی گئی ہے۔ ایجنڈے میں کہا گیا ہے کہ ایوان کے 152 ارکان کی رائے ہیکہ وزیر اعظم عمران خان ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں،لہذا انہیں عہدے سے ہٹا دیاجائے۔اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے روایات کے مطابق اجلاس کو پی ٹی آئی کے ممبر کی رحلت کے باعث اجلاس کو تعزیتی ریفرنس میں تبدیل کرکے ملتوی کرنے کا امکان ہے، ایسا ہونے کی صورت میں اپوزیشن کی جانب سے ایوان میں شدید احتجاج کا بھی قوی امکان ہے۔ذرائع کا مزید بتانا ہے کہ اپوزیشن ایوان میں پاور شو کرے گی اور اس نے اپنے تمام ارکان کو اجلاس میں شریک ہونے کی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔واضح رہے کہ قومی اسمبلی اجلاس اس وقت حکومتی اتحاد کے پاس 179 جبکہ اپوزیشن کے پاس 162 ممبران ہیں۔ اس سے قبل اسپیکر قومی اسمبلی نے اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ کو طلب کیا تھا تاہم اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے اجلاس کا ایجنڈا جاری نہیں کیا گیا تھا جس پر اپوزیشن کی جانب سے تنقید کی جارہی تھی۔

