فیصل آباد (آئی پی ایس )وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن پر تنقید کی ہے۔ جڑانوالہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے زور دیا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ کوئی ایسا سیاسی اقدام نہیں تھا جس کا مقصد پی ٹی آئی کی حکومت کو ہٹا کر صوبے میں مسلم لیگ (ن) کی موجودگی کو مضبوط بنانا ہو۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتظامی اقدام ہے، اسے صرف یک نکاتی ایجنڈا دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تحت تشکیل دیا گیا۔ طلال چوہدری نے کہا مجھے افسوس ہے، ہمیں توقع نہیں تھی کہ مولانا فضل الرحمان صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت نہ ہونے کی صورت میں اپنا حصہ مانگیں گے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ ایک “انتہائی ذمہ دارانہ” فیصلہ تھا جو دیگر تمام متبادل راستوں پر غور کرنے کے بعد کیا گیا،
وفاقی حکومت کا خیبر پختونخوا میں کوئی سیاسی انتظام قائم کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ مولانا صاحب کیوں کہتے ہیں کہ انہیں انتخابات میں شکست تسلیم کرنے پر مجبور کیا گیا، فضل الرحمن کی جماعت کو خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی نے اور بلوچستان میں محمود خان اچکزئی کی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے شکست دی تھی۔طلال چوہدری نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) اسی صورت میں احترام کی مستحق ہے جب وہ پاکستان کے مفادات کے ساتھ کھڑی ہو۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمن کی جانب سے اپنے حالیہ بیانات میں 1971 میں مشرقی پاکستان کی پاکستان سے علیحدگی کا ذکر کرنے پر بھی تنقید کی۔طلال چوہدری نے کہا آپ 2024 کے انتخابات ہارنے کے بعد 1971 کا ذکر کر رہے ہیں، خیبر پختونخوا کا یہ انتظام حصص کی تقسیم، اتحاد یا حکومتیں بنانے، یا سیاست کرنے کے لیے نہیں ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ کے پی ایڈوائزری کونسل کے ارکان میں سے صرف ایک رکن کا تعلق سیاسی پس منظر سے ہے، کیونکہ وہ شہدا کے خاندانوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔طلال چوہدری نے ایک بار پھر پیشکش کی کہ تمام متعلقہ فریقین (اسٹیک ہولڈرز) کے ساتھ مل کر نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کیا جائے اور دہشت گردی کا مقابلہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا، “سیاست صرف وہیں ممکن ہے جہاں امن ہو۔
