ہومبریکنگ نیوزمذاکرات کے لیے تیار، ایٹمی ہتھیار نہیں چاہتے: ایرانی صدر

مذاکرات کے لیے تیار، ایٹمی ہتھیار نہیں چاہتے: ایرانی صدر

تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کے ملک پر عائد امریکی پابندیوں کا تسلسل حالات کو مزید خراب کرنے کا باعث بنے گا۔

انہوں نے تہران کے ساتھ معاملے میں طاقت کی پالیسی کے بجائے مذاکرات کو اپنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے دوبارہ اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں چاہتا اور مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

ان کا یہ بیان ان رپورٹس کے ساتھ سامنے آیا ہے جن میں ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ جنگ شروع کرنے کے منصوبوں پر غور کرنے کا ذکر ہے۔

مسعود پزشکیان نے آرمینیا میں اپنی ملاقاتوں کے دوران اس بات پر زور دیا کہ ایران کو پابندیوں کے ذریعے نہیں جھکایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو یہ جان لینا چاہیے کہ ایران اپنے عوام پر اعتماد کرتے ہوئے اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو طاقت کے ساتھ جاری رکھے گا۔

مسعود پزشکیان نے ایران پر عائد امریکی پابندیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تاکید کی کہ امریکہ نے نہ صرف ہمارے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے مسائل پیدا کیے ہیں۔ اگر وہ اسی راستے پر چلنا چاہتا ہے تو پوری دنیا کے لیے حالات مزید خراب ہو جائیں گے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ وہ طاقت کے استعمال کے بجائے منطق کے ساتھ مذاکرات کا سہارا لے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جمعے کی دوپہر آرمینیائی وزیراعظم نکول پاشینیان سے ملاقات کی اور بائیولوجیکل ڈائیورسٹی کنونشن کے فریقین کی 17ویں کانفرنس کے اجلاس کے موقع پر ان سے بات چیت کی۔

ایرانی صدر نے اس ملاقات کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان کان کنی، تجارتی، اقتصادی، سیاحتی اور ثقافتی شعبوں میں طویل میعاد سٹریٹجک پروگرام تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ پزشکیان نے تاکید کی کہ دونوں ملکوں کے درمیان سٹریٹجک پروگرام کی تیاری مختلف شعبوں میں ان کے تعلقات کو گہرا کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ مسعود پزشکیان نے یہ بھی کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو گہرا کرنا خطے میں استحکام اور سلامتی کا باعث بنے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔