ایبٹ آباد(سب نیوز)وفاقی وزیر مذہبی امور اورچیئرمین صوبہ ہزارہ تحریک سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ ہزارہ صوبہ ہمارا حق ہے اور ہم اپنا حق عوام کی طاقت سے حاصل کریں گے۔ جلد اسلام آباد میں ہزارہ کے عوام اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کریں گے۔ میں نے وزیراعظم شہباز شریف سے بات کی تھی، انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ جلد اس مسئلہ پر میٹنگ منعقد کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جلال بابا آڈیٹوریم ایبٹ آباد میں صوبہ ہزارہ تحریک کے زیر اہتمام شہدا صوبہ ہزارہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شہدا ہزارہ کی برسی کے موقع پر پورے ملک میں مقیم ہزارے وال نے تعزیتی تقریبات کا انعقاد کیا۔ مرکزی تقریب ایبٹ آباد میں منعقد کی گئی۔
اس موقع پر شہدا ہزارہ کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ کانفرنس سے سینیٹر طلحہ محمود، مرتضی جاوید عباسی، ممبران قومی اسمبلی شائستہ جدون، مرکزی کوآرڈینیٹر پروفیسر سجاد قمر، کوآرڈینیٹر ایبٹ آباد عبدالرزاق عباسی،بریگیڈیئر شہزاد اعوان، سابق پارلیمانی لیڈر سردار اورنگ زیب ، کوہستان سے پرنس ذیشان، کوآرڈینیٹر بٹ گرام نوابزادہ ولی محمد، قاری محبوب الرحمن ،مسلم لیگ مانسہرہ کے صدر سید جنید قاسم شاہ، ایبٹ آباد کے جنرل سیکرٹری ذوالفقار عباسی، وسیم حسن خان سواتی، راجہ عدالت، حاجی شاہد خان، سردار اسلم، ممبران صوبائی اسمبلی سردار شاہ جہان یوسف، سیدہ سونیا شاہ، فائزہ ملک، سیدہ شہلا شاہ،سابق ایم پی اے نرگس بی بی، سردار ظہور احمد، سردار سعید، سردار بشیر، سردار قاسم بٹگرام، میاں عنایت الرحمنقاضی غلام مجتبی، قاضی الفت،مولنا ایوب،تحصیل چیرمین بفہ سردار شاہ خان، مانسہرہ شیخ شفیع، سابق ضلع ناظم سردار سید غلام، سردار غلام مصطفی، سید ریاض علی شاہ، مسلم لیگ ایبٹ آباد کے صدر ملک مہابت اعوان، ملک ارشد اعوان، قومی وطن پارٹی کے سردار احمد نواز، چوہدری نذیر، سردار فضل الرحمانقاضی الفت، قاضی محمد صادق، سردار لیاقت کسانہ، ناظم اقبال اعوان نے بھی خطاب کیا۔ سردار محمد یوسف نے کہا کہ 12اپریل 2010 کو ہمارے سات لوگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ہم ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انھوں نے جس مقصد کے لیے قربانی دی، ہم نے ایک دن بھی اس کو فراموش نہیں کیا۔ اقتدار میں ہوں یا اقتدار سے باہر، ہم نے جدوجہد جاری رکھی، اور جاری رکھیں گے۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ موجودہ دور میں صوبوں کی تحریک کی شمع ہزارہ کے عوام نے اپنے خون سے روشن کی اور ہم اس شمع کو بجھنے نہیں دیں گے۔ہم نے ایک دن بھی ہزارہ صوبہ کی تحریک روکی نہیں۔ اقتدار ہو یا نہ ہو، ہزارہ صوبہ کا علم ہم نے اونچا رکھا۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت ملکی اور بین الاقوامی حالات سازگار نہیں تھے ورنہ ہم نے اسلام آباد میں بھرپور عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنا تھا۔ انھوں نے کہا کہ انشااللہ حالات کے سازگار ہوتے ہی ہم اسلام آباد میں بھرپور عوامی طاقت کا مظاہرہ کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے وزیراعظم شہباز شریف سے ہزارہ صوبہ کیلئے بات کی تھی۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ جلد اس پر میٹنگ کریں گے۔ سردار محمد یوسف نے کہا کہ آج کے اس جم غفیر کے توسط سے وزیر اعظم سے دوبارہ بات کروں گا اور ہزارہ کے عوام اور تمام جماعتوں کی طرف سے ان کو پیغام پہنچاوں گا کہ ہزارہ کے شہدا کو نہ بھولنا نہیں اور سب سے پہلے ہزارہ کو صوبہ بنانا ہے۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ ہزارہ صوبہ کی تحریک تسلسل سے جاری ہے۔ ہم نے سینٹ میں صوبہ ہزارہ کا بل پیش کیا ہوا ہے جو کہ ابھی موجود ہے۔ انشااللہ آپ کی بھرپورتائید سے اس کو دوبارہ ایوان میں لے کر آئیں گے۔ مرتضی جاوید عباسی نے کہا کہ سردار محمد یوسف کی قیادت میں ہزارہ صوبہ بنے گا۔ ہم نے اس مقصد کو سیاست کے لیے کبھی استعمال نہیں کیا۔ ہم نے 2019 میں صوبہ ہزارہ کا بل سب کے اتفاق رائے سے قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ جس پر تمام لیڈرشپ نے دستخط کیے۔ 159 ممبران نے اس پر دستخط کیے۔ انھوں نے کہا کہ صوبہ کے لیے جو بھی اقدام ضروری ہوا وہ ضرور کریں گے۔ اب ہمارا مقدمہ ایوانوں میں ہے اور ہم اس میں کوئی کوتاہی نہیں کریں گے۔ جماعت اسلامی ہزارہ صوبہ کے امیر اور ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر عبدالرزاق عباسی نے کہا کہ تمام قومی سیاسی جماعتیں ہزارہ صوبہ کے لیے وعدہ کر چکی ہیں۔ اور سب نے ہزارہ آ کر صوبہ ہزارہ کی حمایت کا اعلان کیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہزارہ کو صوبہ بنایا جائے ۔ اس پر سیاست نہ کی جائے۔جماعت اسلامی نے ہزارہ کو صوبہ تسلیم کر لیا ہے ۔ اور انشااللہ قومی سطح پر بھی اس مطالبے کو تسلیم کروا ہیں گے۔ مرکزی کوآرڈینیٹر پروفیسر سجاد قمر نے کہا کہ ملکی قیادت اس وقت بین الاقوامی مذاکرات کی میزبان تھی جو پورے پاکستان کے لیے باعث فخر ہے۔ حالات سازگار ہوتے ہی سپریم کونسل ہزارہ صوبہ تحریک کا اجلاس منعقد کر کے اسلام آباد میں بھرپور عوام طاقت کا مظاہرہ کریں گے اور شہدا کی تحریک کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔
