اسلام آباد (سب نیوز )خلیجِ فارس کے خطے میں پیچیدہ صورتِ حال کے حل کے لیے ایک موقع پیدا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ بیشتر ممالک اس عمل کی حمایت کر رہے ہیں اور اپنی امیدیں امریکہ اور ایران کے درمیان ان مذاکرات کی کامیابی سے وابستہ کیے ہوئے ہیں، جو ہمارے پاکستانی شراکت داروں کی ثالثی میں اسلام آباد میں شروع ہونے والے ہیں۔تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض قوتیں، خواہ دانستہ طور پر یا غیر دانستہ طور پر، قیامِ امن کی جانب پیش رفت میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہیں۔
بالخصوص وہ عناصر، جنہوں نے ایران کے خلاف جارحیت کا آغاز کیا اور اب آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق مسائل کا ذمہ دار بھی ایران ہی کو ٹھہرا رہے ہیں، انہیں واقعات کی حقیقی ترتیب کو مسخ نہیں کرنا چاہیے، خصوصا اس حقیقت کو کہ 28 فروری تک یہ نہایت اہم آبی گزرگاہ بلا تعطل فعال رہی۔اس مرحلے پر بنیادی مقصد خطے میں جاری اس تباہ کن تنازع کے بنیادی اسباب کا تدارک ہے، یعنی اس جنگ کا مکمل خاتمہ جس کا آغاز امریکہ اور اسرائیل نے کیا۔ اس کے اثرات میں جزیرہ نمائے عرب کے ممالک کو پہنچنے والا نقصان بھی شامل ہے، نیز لبنان۔اسرائیل سرحدی علاقے میں جاری فوجی سرگرمیاں اور لبنان پر ہونے والے میزائل و فضائی حملے بھی، جن کا فوری طور پر بند ہونا ناگزیر ہے۔
اس تناظر میں ہم اس امر کے حامی ہیں کہ خطے کے ممالک کے درمیان موجود اختلافات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے۔ ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ تعمیری امن کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے اور مشرقِ وسطی میں دیرپا استحکام کی راہ ہموار کی جا سکے۔ہم پاکستان میں عنقریب منعقد ہونے والے مذاکرات کے تمام شرکا سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کریں اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جو اس اہم موقع کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔
ہم ایک بار پھر خلیجِ فارس کے خطے کے لیے سلامتی کے ایسے ڈھانچے کے قیام سے متعلق روس کی اس دیرینہ تجویز کی اہمیت پر زور دیتے ہیں، جو تمام ساحلی ریاستوں، یعنی عرب ممالک اور اسلامی جمہوریہ ایران، کے درمیان مکالمے کے ذریعے وجود میں آئے، اور جس میں ایسے بیرونی فریقوں کی شرکت اور حمایت بھی شامل ہو جو مفادات کے منصفانہ اور پائیدار توازن کے قیام میں حقیقی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں
