جدہ (خالد نواز چیمہ)دنیا بھر کی طرح سعودی عرب میں بھی صحافی برادری نے یومِ تشکر بھرپور جذبے اور ملی یکجہتی کے ساتھ منایا۔ اس موقع پر پاکستان جرنلسٹس فورم کے چیئرمین امیر محمد خان اوور سیز گلوبل فانڈیشن سعودی عرب کے صدر خالد نواز چیمہ جمیل راٹھور جاوید راھو اسد اکرم معروف حسین مریم شاھد زکیر بھٹی نے خصوصی تقاریب کا انعقاد کیا، جن میں پاکستان کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے دعائیں کی گئیں۔
تقریب کے شرکا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ قلم اور سچائی کی طاقت کے ذریعے ہمیشہ پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرتے رہیں گے۔ مقررین نے کہا کہ آج کا دن ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ہم ایک عظیم قوم کے فرد ہیں، جسے اللہ تعالی نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیا کا کردار نہ صرف حقائق بیان کرنا ہے بلکہ قومی یکجہتی، استحکام اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت بھی ہے۔
اس موقع پر افواجِ پاکستان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ہماری بہادر افواج ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی محافظ ہیں، جن کی لازوال قربانیوں کی بدولت آج ہم امن و سکون کی زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن ہمیشہ پاکستان کو کمزور کرنے کی سازشوں میں مصروف رہتا ہے، مگر ہماری مسلح افواج ہر محاذ پر سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہیں۔
صحافی برادری نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ وہ ہر قسم کی منفی پروپیگنڈا مہم کا بھرپور جواب دیں گے اور دنیا کے سامنے پاکستان کا روشن، پرامن اور ترقی یافتہ چہرہ پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی نہ صرف ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ پاکستان کے سفیر بن کر اس کی نیک نامی کو بھی فروغ دے رہے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، استحکام، معاشی خوشحالی اور قومی یکجہتی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ہر مشکل گھڑی میں اپنی افواج، اپنے ملک اور اپنے اداروں کے ساتھ کھڑے رہیں گے، اور پاکستان کو دنیا کے عظیم ترین ممالک کی صف میں شامل کرنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے۔ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی یا ممکنہ جنگ بندی جیسے حساس معاملات میں پاکستان کا کردار ہمیشہ نہایت محتاط، متوازن اور سفارتی نوعیت کا رہا ہے۔ پاکستان خطے میں ایک اہم اسلامی اور ایٹمی قوت ہونے کے ناطے امن، استحکام اور مذاکرات کے فروغ میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے ایران کے ساتھ برادرانہ اور ہمسایہ تعلقات ہیں، جبکہ امریکہ کے ساتھ بھی سفارتی، معاشی اور دفاعی روابط موجود ہیں۔ اسی توازن کی بنیاد پر پاکستان اکثر کشیدگی کم کرنے کے لیے پل کا کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آتا ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول یہی رہا ہے کہ خطے میں کسی بھی قسم کی جنگ یا تصادم سے گریز کیا جائے۔ اسی تناظر میں پاکستان نے ہمیشہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات، سفارتکاری اور ثالثی کی حمایت کی ہے۔ ماضی میں بھی جب خطے میں کشیدگی بڑھی، پاکستان نے کھل کر کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کے بجائے امن کی اپیل کی اور پسِ پردہ سفارتی رابطوں کو ترجیح دی۔
پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت بارہا یہ واضح کر چکی ہے کہ مشرقِ وسطی میں جنگ پورے خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف معیشت بلکہ عالمی امن پر بھی پڑیں گے۔ اسی لیے پاکستان اقوامِ متحدہ سمیت عالمی فورمز پر بھی کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیتا رہا ہے۔
افواجِ پاکستان کا کردار بھی یہاں قابلِ ذکر ہے، جو نہ صرف ملک کے دفاع کو یقینی بناتی ہیں بلکہ علاقائی امن کے لیے حکومتی پالیسی کے مطابق ذمہ دارانہ کردار ادا کرتی ہیں۔ پاکستان کسی بھی بلاک کی سیاست سے دور رہتے ہوئے امن سب کے لیے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
مختصرا، ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی جنگ بندی یا کشیدگی میں کمی کے عمل میں پاکستان کا کردار براہِ راست ثالثی سے زیادہ خاموش سفارتکاری، اعتماد سازی اور امن کے پیغام کو آگے بڑھانے پر مبنی ہوتا ہے۔ یہی حکمت عملی پاکستان کو ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست کے طور پر دنیا میں نمایاں کرتی ہے۔
