اسلام آباد (آئی پی ایس )ایشائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کی موجودہ مالی سال کے لیے معاشی شرح نمو بڑھا کر 3.5 فیصد کردی ہے، تاہم عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال اور مشرق وسطی کی کشیدگی کو بڑے خطرات میں شامل قرار دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت درمیانی مدت میں بہتری کی جانب گامزن رہنے کی توقع ہے، جبکہ 2027 میں شرح نمو 4.5 فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس سے قبل رواں مالی سال کے لیے شرح نمو 3 فیصد رکھی گئی تھی۔
پاکستان میں بینک کی کنٹری ڈائریکٹر ایما فین کے مطابق معیشت میں استحکام آ رہا ہے اور اصلاحاتی اقدامات کے باعث بہتری کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں، تاہم عالمی سطح پر درپیش چیلنجز کے باعث خطرات بدستور موجود ہیں۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مشرق وسطی میں جاری کشیدگی کے باعث تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ مالیاتی اور بیرونی کھاتوں پر بھی دبا بڑھے گا۔ اوسط مہنگائی 2026 میں 6.4 فیصد اور 2027 میں 6.5 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
مرکزی بینک کی جانب سے محتاط انداز میں مالیاتی پالیسی میں نرمی کی توقع ہے تاکہ مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے اندر رکھا جا سکے۔رپورٹ کے مطابق اگر مشرق وسطی میں کشیدگی طویل ہوتی ہے تو اس سے توانائی اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں زرعی اور صنعتی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے، ترسیلات زر میں کمی آ سکتی ہے اور جاری کھاتہ خسارہ بڑھ سکتا ہے۔
معاشی بہتری کے لیے نجی سرمایہ کاری میں اضافہ اہم کردار ادا کرے گا، جبکہ تعمیراتی شعبے کو حکومتی مراعات اور سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات سے تقویت مل رہی ہے۔ مالی سال کے ابتدائی حصے میں بڑی صنعتوں میں 4.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافے کے باعث تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے، جبکہ جاری کھاتہ دوبارہ خسارے میں جا سکتا ہے۔ جولائی سے جنوری کے دوران خسارہ 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
خطے کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاشی شرح نمو 2026 اور 2027 میں 5.1 فیصد رہنے کا امکان ہے، تاہم توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی تجارتی غیر یقینی صورتحال ترقی کی رفتار کو متاثر کر سکتی ہے۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ معاشی اصلاحات کا تسلسل، محتاط مالیاتی پالیسی اور ساختی تبدیلیاں ہی پاکستان کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن رکھ سکتی ہیں۔
