Saturday, April 11, 2026
ہومبریکنگ نیوزحکومت معیشت کو استحکام، مضبوطی اور پائیدار ترقی کی جانب گامزن کرے گی، وزیرخزانہ

حکومت معیشت کو استحکام، مضبوطی اور پائیدار ترقی کی جانب گامزن کرے گی، وزیرخزانہ

اسلام آباد(آئی پی ایس )وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت کاروباری برادری کے ساتھ مل کر معیشت کو استحکام، مضبوطی اور پائیدار ترقی کی جانب گامزن کرے گی۔وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس اور کاروباری تنظیموں کے صدور اور سینئر عہدیداران کے ساتھ ورچوئل اجلاس کی صدارت کی، جس میں موجودہ معاشی صورتحال، آئندہ بجٹ کی ترجیحات اور پائیدار اقتصادی ترقی کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

تقریبا 90 منٹ جاری رہنے والے اجلاس میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، فنانس ڈویژن، ریونیو ڈویژن اور ٹیکس پالیسی آفس کے اعلی حکام بھی شریک ہوئے۔ اجلاس کے آغاز میں وزیر خزانہ نے شرکا کا خیرمقدم کرتے ہوئے کاروباری برادری کی حکومت کے ساتھ مسلسل مشاورت کو سراہا۔ انہوں نے بدلتی علاقائی صورتحال کے تناظر میں عالمی سطح پر پاکستان کی بڑھتی اہمیت کا ذکر کیا اور کہا کہ کاروباری طبقے کے ساتھ باقاعدہ اور منظم مکالمہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور عالمی شراکت داروں سے اہم ملاقاتوں سے قبل معاشی اسٹیک ہولڈرز کی براہ راست آرا حاصل کرنا ضروری ہے۔

وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ اجلاس کا مقصد صرف ٹیکس اور بجٹ معاملات تک محدود نہیں بلکہ تجارت کے فروغ، سرمایہ کاری کے حصول اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے عملی تجاویز پر غور بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان حالیہ چیلنجز کے باوجود مالیاتی نظم و ضبط اور مضبوط بیرونی ذخائر کی بدولت نسبتا مستحکم معاشی بنیاد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور حکومت جامع اور دیرپا معاشی بحالی کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے مالیاتی نظم و نسق میں بہتری، بیرونی ادائیگیوں کی تکمیل اور کمزور طبقات کے لیے ہدفی اقدامات کو حالیہ معاشی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشی بحالی بنیادی اقتصادی اشاریوں اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کو مضبوط بنانے سے ممکن ہوئی، جس میں نجی شعبہ اہم شراکت دار ہے۔

وزیر خزانہ نے تجارت میں سہولت، لاجسٹکس کی بہتری اور علاقائی روابط کے فروغ سمیت پاکستان کو ٹرانس شپمنٹ اور سرمایہ کاری کے مرکز کے طور پر ابھارنے کے امکانات پر تجاویز دینے کی بھی حوصلہ افزائی کی۔ اجلاس کے دوران کاروباری نمائندوں نے کاروباری ماحول بہتر بنانے، برآمدات کے فروغ، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور علاقائی معیار کے مطابق پالیسی فریم ورک تشکیل دینے سے متعلق مختلف تجاویز پیش کیں۔ شرکا نے آپریشنل رکاوٹوں میں کمی، انفراسٹرکچر کے مثر استعمال اور اہم معاشی شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا۔

شرکا نے لیکویڈیٹی بہتر بنانے، برآمدی صنعتوں کی معاونت اور نئی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔ تجاویز میں پالیسی تسلسل، بجٹ سازی کے عمل میں مشاورت اور انفراسٹرکچر، مینوفیکچرنگ اور ابھرتے شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ہدفی اقدامات شامل تھے۔

گفتگو میں رسمی معیشت کو مضبوط بنانے، جدت اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے اور طویل مدتی اقتصادی ترقی کے امکانات کو بروئے کار لانے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کاروباری برادری کی تجاویز کو سراہتے ہوئے کہا کہ متعدد سفارشات حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے سے ہم آہنگ ہیں اور دستیاب مالی گنجائش کے اندر زیادہ معاشی اثر رکھنے والے اقدامات کو ترجیح دی جائے گی۔

ٹیکس پالیسی آفس اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام نے شرکا کو آگاہ کیا کہ چیمبرز کی جانب سے موصول ہونے والی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ متوازن اور مثر پالیسی اقدامات تشکیل دیے جا سکیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل مشاورت ترقی دوست بجٹ کی تشکیل کا اہم حصہ رہے گی۔

اختتام پر وزیر خزانہ نے شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت کاروباری برادری کے ساتھ مل کر معیشت کو استحکام، مضبوطی اور پائیدار ترقی کی جانب گامزن کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مرحلہ اقتصادی اصلاحات کو آگے بڑھانے اور نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے اہم ہے اور سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان مسلسل تعاون ہی کامیابی کی ضمانت ہوگا۔

اجلاس میں ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ، نائب صدر ذکی اعجاز، کراچی، لاہور، راولپنڈی، سیالکوٹ، فیصل آباد، کوئٹہ، سرحد، گوجرانوالہ، گجرات اور اسلام آباد چیمبرز آف کامرس کے نمائندوں سمیت مختلف کاروباری رہنماں نے شرکت کی اور پاکستان کی معاشی بہتری سے متعلق اپنی آرا پیش کیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔