اسلام آباد (آئی پی ی)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بدھ کے روز طویل عرصے سے زیرِ غور انضمام کی منظوری دے دی، جس کے تحت ٹیلی نور پاکستان کو پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ یعنی یوفون میں ضم کیا جائے گا۔تاہم یہ منظوری سخت شرائط کے ساتھ دی گئی ہے تاکہ صارفین کے حقوق کا تحفظ، مسابقت کا فروغ اور ملک بھر میں سروس کے معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔پی ٹی اے کے فیصلے کا مرکزی نکتہ واضح ہے کہ انضمام کی اجازت تو دی جا رہی ہے، مگر سخت ریگولیٹری نگرانی کے تحت۔
اتھارٹی نے ہدایت کی ہے کہ یو فون کے نام سے معروف پی ٹی ایم ایل انضمام مکمل ہونے کے بعد ٹیلی نور پاکستان کی تمام ذمہ داریاں، واجبات اور ریگولیٹری تقاضے مکمل طور پر اپنے ذمے لے گی۔یہ انضمام اس پس منظر میں ہو رہا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے 2025 کے آخر میں ٹیلی نور پاکستان کو خرید لیا تھا، جس کے بعد دونوں کمپنیاں ایک ہی کارپوریٹ چھتری تلے آ گئی ہیں۔
اس وقت پاکستان کی ٹیلی کام مارکیٹ میں 4 بڑے موبائل آپریٹرز موجود ہیں۔ انضمام کے بعد نئی کمپنی، جسے پی ٹی اے کے حکم میں مرج کو کہا گیا ہے، مارکیٹ ریونیو کا تقریبا 31.7 فیصد اور صارفین کا 35.7 فیصد حصہ رکھے گی۔پی ٹی اے نے تسلیم کیا ہے کہ اس انضمام سے مارکیٹ میں ارتکاز بڑھ سکتا ہے اور مسابقت مخالف رویوں کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کے تدارک کے لیے اتھارٹی نے انٹرکنکشن، انفراسٹرکچر شیئرنگ اور مساوی رسائی سے متعلق سخت شرائط عائد کی ہیں۔
تکنیکی سطح پر پی ٹی اے نے نیٹ ورک انضمام کے لیے ایک جامع منصوبہ ترتیب دیا ہے تاکہ سروس کے معیار میں بہتری لائی جا سکے اور صارفین کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔انضمام کے بعد نئی کمپنی مختلف فریکوئنسی بینڈز میں 56 میگا ہرٹز سے زائد اسپیکٹرم کی حامل ہوگی، جس سے اس کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
تاہم پی ٹی اے نے خبردار کیا ہے کہ اسپیکٹرم کا مثر استعمال لازمی ہوگا، بصورت دیگر غیراستعمال شدہ وسائل واپس لیے جا سکتے ہیں۔اتھارٹی نے یہ حق بھی محفوظ رکھا ہے کہ ضرورت پڑنے پر متعلقہ سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر اسپیکٹرم کی ازسر نو ترتیب کر سکے۔
مزید برآں، پی ٹی ایم ایل کو کو لوکیشن سہولیات تک شفاف اور مساوی رسائی یقینی بنانا ہوگی اور متعلقہ کمپنیوں کو کسی قسم کی ترجیح نہیں دی جا سکے گی۔پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ اس فیصلے میں صارفین کے مفادات کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، انضمام کے بعد کمپنی کو صارفین کے تحفظ سے متعلق قوانین پر سختی سے عمل کرنا ہوگا، غیر منصفانہ مارکیٹنگ سے گریز کرنا ہوگا اور تمام پیشکشوں میں شفافیت برقرار رکھنا ہوگی۔
صارفین کو انضمام کے بعد کم از کم 3 ماہ تک اپنے موجودہ پیکجز استعمال کرنے کی سہولت دی جائے گی تاکہ بغیر کسی دبا کے منتقلی کا عمل مکمل ہو سکے۔اتھارٹی نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ تمام ویلیو ایڈیڈ سروسز واضح طور پر ظاہر ہوں اور انہیں آسانی سے بند کیا جا سکے، تاکہ غیر مجاز سروسز کے حوالے سے شکایات کا خاتمہ ہو سکے۔
