لندن(آئی پی ایس ) برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود کی طرف سے پناہ کے ایسے متلاشی افراد جو برطانیہ میں مقیم ہیں اور انہیں رضا کارانہ طور پر ملک چھوڑنے کیلئے 40 ہزار پانڈ کی آفر کی گئی تھی کے بارے میں ایک ماہ گزرنے کے باوجود نتائج سامنے نہیں لائے جا سکے۔ وزیر داخلہ اس امر کی تفصیلات بتانے سے گریزاں ہیں اس اسکیم کو کتنے فیصد لوگوں نے قبول کیا اور کتنوں نے انکار کیا، کنزرویٹو کی طر ف سے اسے حیران کن رازداری قرار دیا جا رہا ہے۔
باور کیا جا رہا ہے کہ اگر سیاسی پناہ کے متلاشیوں نے نقد پیشکش کو بھی ٹھکرا دیا تو پناہ کے نظام کیلئے یہ لمحہ فکریہ ہوگا، یہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہوگا کہ تارکین وطن برطانیہ میں غیر معینہ مدت تک رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔تقریبا ایک لاکھ 58 ہزار پانڈ اوسط کی لاگت سے تارکین وطن کے فی خاندان کو ہوٹل میں قیام کرایا جا رہا ہے۔
یہ امرقابل ذکر ہے کہ سیکریٹری داخلہ کی طرف سے تارکین وطن کو رضا کارانہ ملک چھوڑنے پر 10 ہزار پانڈ فی خاندان اور ہوائی ٹکٹ کی پیشکش کی گئی تھی، 5 سے 12مارچ کے درمیان اس آفر پر تارکین وطن فیصلے کرنے کے اہل تھے جو گزر چکی ہے۔
