کوئٹہ (آئی پی ایس )بلوچستان کے سیکیورٹی اداروں نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے افغان دہشتگرد کو گرفتار کرلیا۔ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشتگرد کا تعلق تحریک طالبان افغانستان سے ہے۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے وزیر داخلہ کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران صوبے میں ہزاروں انٹیلی جنس آپریشن انجام دیے جا چکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی اے اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)مل کر بلوچستان میں حملے کرتے ہیں۔
اس موقع پر وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو نے کہاکہ کوئی بھی ملک پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھے گا تو اسے بھرپور جواب دیا جائے گا۔انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بعض افغان شہری نادرا کے جعلی شناختی کارڈز استعمال کررہے ہیں۔صوبائی وزیر داخلہ نے مزید کہاکہ ملک دشمن عناصر سازشوں میں ملوث ہیں اور ان کی منصوبہ بندی کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری حمزہ شفقات نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں، حبیب اللہ کا بھی افغانستان میں ٹی ٹی پی کمانڈر ہے، دہشتگرد حبیب اللہ لالو کے نام سے کارروائیاں کر چکا ہے۔ حمزہ شفقات کا کہنا تھا کہ دہشتگرد پہلے بھی گرفتار ہو چکا، 2 ایف سی اہلکاروں کی شہادت میں ملوث رہا ہے، مزید 3 افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا، ملزم حبیب اللہ نے کابل سے دہشتگردی کی تربیت حاصل کی، ملزم حبیب اللہ جعلی تذکرے پر پاکستان میں داخل ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ملزم نے کراچی میں رشتہ داروں کی مدد سے شناختی کارڈ بنوایا، ملزم دہشتگردی کے ساتھ منشیات فروشی میں بھی ملوث ہے، اب تک 9لاکھ 60ہزار افغان باشندوں کو واپس بھیجا گیا، قلعہ عبداللہ میں 700عسکری گارڈ گرفتار ہیں۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ عسکری گارڈ پوست کی کاشت کی حفاظت کر رہے تھے، زمینی اور ڈرون آپریشن میں بڑی مقدار میں پوست تلف کی گئی، دیکھ رہے ہیں اس نے پاکستان سے شناختی کارڈ کیسے لیا۔ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے کہا کہ کوئٹہ میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات میں بھی افغان ملوث ہیں، نام نہاد دہشتگرد تنظیموں کے رہنما پہلے ہی افغانستان میں موجود ہیں، نادرا ریکارڈ چیک کیا جارہا ہے کہ جعلی شناختی کارڈ کیسے بنے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ غیرقانونی افغانیوں کے پاس شناختی کارڈ کے فنگر پرنٹس ملے ہیں، جعلی شناختی کارڈ کے اجرا سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔
