Sunday, April 5, 2026
ہومپاکستانایف آئی اے کا مطلوب ملزمان کی گرفتاری کیلئے اے آئی سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ

ایف آئی اے کا مطلوب ملزمان کی گرفتاری کیلئے اے آئی سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ

اسلام آباد (سب نیوز)وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)نے جدید مصنوعی ذہانت (اے آئی)پر مبنی نظام تیار کر لیا ہے جس کے ذریعے مطلوب ملزمان کو ان کی بدلتی ہوئی شکل و صورت کے باوجود شناخت کر کے ٹریس کیا جا سکے گا۔ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عثمان انور نے بتایا کہ ادارے کی ریڈ بک، جس میں انتہائی مطلوب ملزمان کی تفصیلات شامل ہوتی ہیں، کو جدید ٹیکنالوجی سے اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔

نئے نظام کے تحت پرانی تصاویر کی بنیاد پر اے آئی ٹولز ملزمان کی موجودہ ممکنہ شکل کے نئے ویژولز تیار کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ملزم وقت کے ساتھ گنجا ہو جائے یا داڑھی رکھ لے تب بھی اس کی شناخت ممکن ہوگی اور محض ظاہری حلیہ تبدیل کر کے قانون سے بچنا مشکل ہو جائے گا۔اپ ڈیٹ ہونے والی ریڈ بک متعلقہ ایف آئی اے افسران کے ساتھ ساتھ عوام کیلئے بھی آن لائن دستیاب ہوگی، جس میں ملزمان کے اہل خانہ اور قریبی ساتھیوں کی معلومات، شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور موبائل نمبر، نمایاں شناختی نشان، بینک اکانٹس، مقدمات کی تفصیلات اور عدالتی حیثیت شامل ہوگی۔ایف آئی اے حکام کے مطابق انسانی اسمگلرز کے طریقہ واردات، سرگرمیوں کے علاقے، استعمال ہونے والے راستے اور آخری معلوم مقام کی معلومات بھی شامل کی جا رہی ہیں۔ اس وقت انسانی اسمگلنگ کے مختلف مقدمات میں مطلوب 143 افراد ریڈ بک میں درج ہیں۔ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ ادارے کی اصلاحات اور جدید کاری میں ڈیجیٹل تبدیلی بنیادی ستون ہے۔

جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جرائم کی روک تھام، شفافیت، نگرانی اور ڈیٹا پر مبنی فیصلوں میں بہتری آئے گی جبکہ روایتی اور منتشر نظام کو مربوط ڈیجیٹل سسٹم سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ تحقیقات، انسپیکشن، احتساب اور انسانی وسائل کے شعبوں میں ڈیجیٹل نظام متعارف کروا کر ای گورننس اور جدید قانون نافذ کرنے کے طریقوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ داخلی احتساب کا ڈیجیٹل نظام بھی فعال ہے جسے مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ڈاکٹر عثمان انور نے مزید بتایا کہ ایف آئی اے ہیڈکوارٹر میں قائم سنٹرلائزڈ امیگریشن مانیٹرنگ اینڈ کنٹرول سینٹر کو بھی اپ گریڈ اور منتقل کیا جا رہا ہے۔غیر قانونی تارکین وطن کی کشتیوں کے حادثات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات جاری ہیں، قانونی فریم ورک کو مضبوط بنایا گیا ہے اور انسانی اسمگلروں کے خلاف کریک ڈاون جاری ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ بیرون ملک روزگار کیلئے صرف قانونی راستے اختیار کریں اور اپنی جان خطرے میں نہ ڈالیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔