اقوام متحدہ :اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے “اقوام متحدہ اور عرب لیگ کا تعاون” کے موضوع پر ایک کھلا اجلاس منعقد کیا۔ جمعہ کے روز اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے فو چھونگ نے اجلاس میں اس بات پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ کے مسئلے کو سیاسی طریقے سے حل کیا جانا چاہیے اور موجودہ تناؤ کو جلد از جلد کم کرنے کے لیے عرب ممالک کی جانب سے زیادہ سے زیادہ کردار ادا کرنے کی حمایت کی جانی چاہیے۔
فو چھونگ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی تاریخ نے باربار ثابت کیا ہے کہ طاقت مسائل کا حل نہیں ہے اور سیاسی حل ہی واحد راستہ ہے۔ عرب ممالک مشرق وسطیٰ کے مسائل کو حل کرنے میں جغرافیائی محل وقوع، تاریخ اور مذہب سمیت دیگر پہلوؤں میں منفرد برتریاں رکھتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ان کے عوام کا گھر ہے، یہ بڑی طاقتوں کی محاذ آرائی کا میدان نہیں ہے۔ عالمی برادری کو مشرق وسطیٰ کے عوام کے آزادانہ انتخاب کا مکمل احترام کرتے ہوئے خطے کے ممالک کے معقول خدشات کو اہمیت دینی چاہیے اور روایتی اختلافات دورکرنے اور یکجہتی اور تعاون کو مضبوط بنانے میں عرب ممالک کی حمایت کرنی چاہیے ۔
سلامتی کونسل کو عرب لیگ کی آراء کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے علاقائی مسائل کو علاقائی ذرائع سے حل کرنے کی حمایت کرنی چاہیے۔ موجودہ صورتحال کے حوالے سے فو چھونگ کا کہنا تھا کہ فوری ضرورت اس بات کی ہے کہ فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر بند کرکے تنازع کو مزید بڑھنے سے روکا جائے۔ اس حوالے سے تمام فریقوں کو کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔
