Wednesday, April 1, 2026
ہومبریکنگ نیوزامریکی عسکری کمانڈر خلیجی ممالک میں اڈوں کو لاحق خطرات سے خبردار کرتے رہے، حکومتیں نظر انداز کرتی رہیں: امریکی اخبار

امریکی عسکری کمانڈر خلیجی ممالک میں اڈوں کو لاحق خطرات سے خبردار کرتے رہے، حکومتیں نظر انداز کرتی رہیں: امریکی اخبار

دبئی(آئی پی ایس )خلیجی ممالک میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو لاحق خطرات کے بارے میں امریکا کے اعلی عسکری کمانڈرز برسوں خبردار کرتے رہے تاہم امریکی حکومتیں اسے نظر انداز کرتی رہیں۔امریکی اخبار وال اسٹری جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکومتوں نے ان فوجی اڈوں سے اہم اثاثوں کی منتقلی سے متعلق سفارشات کو نظرانداز کیا جس کے نتیجے میں حالیہ ایرانی حملے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوئے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ جمعے ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز نے سعودی عرب میں واقع پرنس سلطان ائیر بیس کو شدید نقصان پہنچایا جس کے نتیجے میں تقریبا ایک درجن امریکی فوجی زخمی ہوئے جبکہ قیمتی فوجی طیارے تباہ ہو گئے۔

ایران سے 400 میل سے بھی کم فاصلے پر واقع اس اڈے پر شدید بمباری کی گئی جس میں ایک ای 3 AWACS ریڈار طیارہ اور کئی KC-135 ری فیولنگ ٹینکرز تباہ ہو گئے۔اخبار کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے سابق سربراہان جن میں جنرل فرینک میکنزی اور جنرل ایرک کوریلا شامل ہیں طویل عرصے سے فوجی حکمت عملی میں تبدیلی کی تجاویز دیتے رہے۔

انہوں نے مغربی سعودی عرب میں مضبوط فوجی اڈوں کا نیٹ ورک قائم کرنے کی تجویز دی تھی تاکہ فوجی اثاثوں کو ایران سے دور منتقل کرکے پیشگی وارننگ کا وقت بڑھایا جا سکے، ایران کی جانب سے اہداف کی نشاندہی کو مشکل بنایا جا سکے اور آبنائے ہرمز جیسے حساس راستے پر انحصار کم کیا جا سکے تاہم نہ بائیڈن انتظامیہ اور نہ ہی ٹرمپ انتظامیہ نے ان سفارشات پر عمل کیا۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق بائیڈن حکومت چین کے مقابلے کے لیے انڈو پیسیفک خطے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھی۔ دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ نے بھی اسرائیل کے ساتھ مل کر جنگ کی تیاری کے باوجود مغربی سعودی عرب میں متبادل فوجی نیٹ ورک کو مضبوط بنانے میں ناکامی دکھائی۔

اخبار کے مطابق فوری خطرات سے نمٹنے کے لیے امریکا اب جنوبی کیرولائنا میں واقع شا ائیر فورس بیس سے فضائی جنگ کی نگرانی کر رہا ہے جبکہ برطانیہ، اسرائیل اور اردن جیسے اتحادی ممالک سے فضائی مشنز آپریٹ کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق خطے میں اپنے غیر محفوظ اثاثوں کے تحفظ کے لیے امریکا اب جلد بازی میں پہلے سے تیار شدہ بنکرز حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ آئندہ ایرانی حملوں سے بچا ممکن بنایا جا سکے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔