اسلام آباد (آئی پی ایس )پاکستان اپنی بحری صلاحیت کو خطے میں ایک طاقتور مرکز میں بدلنے کی رفتار تیز کررہا ہے، جہاں پورٹ قاسم اتھارٹی ٹرانس شپمنٹ آپریشنز کو مضبوط کررہی ہے، صلاحیت میں اضافہ کر رہی ہے اور سرمایہ کار دوست مراعات فراہم کررہی ہے۔اس سے نہ صرف کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ لاگت کم ہوئی ہے اور عالمی شپنگ لائنز کی توجہ بھی پاکستان کی جانب مرکوز ہو رہی ہے۔
عالمی تجارتی راستوں میں تبدیلی اور علاقائی بندرگاہوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت کے پیش نظر پاکستان اپنے بحری انفراسٹرکچر اور پالیسی فریم ورک کو اپ گریڈ کررہا ہے تاکہ ٹرانس شپمنٹ ٹریفک کو مثر طریقے سے حاصل کیا جا سکے۔قاسم انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل کی مضبوط کارکردگی، یارڈ کی بڑھائی گئی گنجائش اور پرکشش نرخوں کے باعث پورٹ قاسم اور کراچی پورٹ جنوبِ ایشیا، مشرقِ وسطی اور دیگر علاقوں سے منسلک ایک کم لاگت اور اعلی کارکردگی والے گیٹ وے کے طور پر ابھر رہے ہیں۔
حالیہ اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ پورٹ قاسم نے 2 جہازوں پر مجموعی طور پر 3 ہزار 485 کنٹینرز ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالا، جس سے آپریشنل کارکردگی اور عالمی اعتماد میں اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔Northern Guard نے 3 ہزار 180 کنٹینرز کی کامیاب پروسیسنگ کے ذریعے پاکستان کی اعلی حجم کنٹینر ٹریفک کو درستگی کے ساتھ سنبھالنے کی صلاحیت ثابت کی، جبکہ Nagoya Express نے 305 اضافی کنٹینرز سنبھالے، جس سے بڑھتی ہوئی بحری سرگرمی اور ٹرانس شپمنٹ کے حجم کی مضبوطی واضح ہوئی۔
برآمدات میں 29 ہزار 497 کنٹینرز کے حجم کے ساتھ پاکستان کے عالمی تجارتی بازاروں میں پھیلا کی عکاسی ہوئی، جبکہ درآمدات کا حجم ایک ہزار 537 کنٹینرز رہا، جو مقامی طلب اور سپلائی چین کی استحکام کو ظاہر کرتا ہے۔
