لاہور (آئی پی ایس )وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر حکومتِ پاکستان کا روشن ڈیجیٹل اکانٹ کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا فیصلہ،غیر ملکی شہریوں، کمپنیوں اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو روشن ڈیجیٹل اور حکومتی سیکیورٹیز سمیت نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری کی اجازت ہوگی.یہ اقدام مالیاتی منڈیوں سے روابط بڑھانے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کا مظہر ہے.
تقریبا 1 کروڑ 10 لاکھ پاکستانیوں پر مشتمل بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی دنیا کی بڑی اور متحرک کمیونٹیز میں شامل ہے۔مشرق وسطی، یورپ، شمالی امریکہ اور مشرق بعید میں مقیم پاکستانی، میزبان معیشتوں میں کردار ادا کرتے ہوئے وطن میں اپنے خاندانوں اور کمیونٹیز کی مدد کر رہے ہیں.اوورسیز پاکستانی نہ صرف ملکی معیشت کی مضبوطی کا ذریعہ ہیں بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کی ثقافت، کاروباری صلاحیت اور اقدار کے سفیر بھی ہیں.اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2025 میں ترسیلاتِ زر 38.3 ارب ڈالر سے بڑھ گئیں جو گزشتہ سال سے 26.6 فیصد زیادہ ہیں.مالی سال 2026 میں ترسیلاتِ زر کے 42 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے.
یہ کارکردگی بیرون ملک پاکستانیوں کے اعتماد اور ملک کی معیشت کی بہتری میں ان کی مسلسل حمایت کی عکاسی کرتی ہے۔ پاکستان دنیا میں ترسیلاتِ زر حاصل کرنے والے ممالک میں پانچویں جبکہ جنوبی ایشیا میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ ترسیلاتِ زر پاکستان کے بیرونی کھاتوں کے استحکام کے لیے سب سے اہم عنصر ہیں.اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر اس وقت تقریبا 16.3 ارب ڈالر جبکہ مجموعی ذخائر 21.6 ارب ڈالر کے قریب ہیں.بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے روشن ڈیجیٹل اکانٹ اسکیم 10 ستمبر 2020 کو متعارف کرائی گئی.
دور رہ کر بھی پاس کے نعرے کے تحت اوورسیز پاکستانیوں کو آسان ڈیجیٹل طریقے سے بینکاری اور سرمایہ کاری سے جوڑنا مقصد تھا.روشن ڈیجیٹل اکانٹ کے ذریعے بیرون ملک پاکستانی بغیر پاکستان آئے اپنا بینک اکانٹ کھول سکتے ہیں.بیرون ملک مقیم پاکستانی حکومتی سیکیورٹیز، نیا پاکستان سرٹیفکیٹس، پاکستان اسٹاک ایکسچینج، میوچل فنڈز اور دیگر ڈیجیٹل بینکاری سہولیات حاصل کر سکتے ہیں.گزشتہ ساڑھے پانچ سال میں روشن ڈیجیٹل اکانٹ نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں. فروری 2026 کے اختتام تک 9 لاکھ سے زائد اکانٹس کھولے جا چکے ہیں.
