اسلام آباد(آئی پی ایس )حکومتِ جاپان نے 2026 کے تعلیمی سال کے لیے گیارہ نمایاں پاکستانی طلبہ کو باوقار وزارتِ تعلیم، ثقافت، کھیل، سائنس و ٹیکنالوجی، جاپان) ریسرچ اسکالرشپس سے نوازا ہے۔ سفارتخانے کے ذریعے دی جانے والی ان اسکالرشپس کے علاوہ، متعدد پاکستانی طلبہ ہر سال جاپانی جامعات میں براہِ راست درخواست دے کر بھی MEXT اسکالرشپس حاصل کرتے ہیں۔ یہ اسکالرشپس طلبہ کو جاپان کی ممتاز جامعات میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کریں گی، جس سے تعلیمی معیار میں بہتری اور دوطرفہ تعلقات کو فروغ ملے گا۔پاکستان میں جاپان کے سفیر، عزت مآب جناب اکاماتسو شوئچی نے اپنے سرکاری رہائش گاہ پر ایک استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا، جس میں MEXT ایلومنائی ایسوسی ایشن آف پاکستان (MAAP) کے اراکین کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور نئے منتخب اسکالرشپ یافتگان کو رخصت کیا گیا۔اپنے خطاب میں سفیر اکاماتسو نے اسکالرشپ حاصل کرنے والے طلبہ کو ان کی شاندار کامیابیوں پر مبارکباد دی اور جاپان کی اعلی جامعات میں تعلیم کے لیے نیک تمناں کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جاپان تعلیم اور انسانی وسائل کی ترقی کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور گزشتہ کئی دہائیوں سے MEXT پروگرام کے ذریعے باصلاحیت پاکستانی طلبہ کو خوش آمدید کہتا رہا ہے۔جب آپ جاپان روانہ ہونے کی تیاری کریں تو تجسس، کشادہ ذہنی اور جرات کا مظاہرہ کریں۔ صرف اساتذہ اور تحقیق سے ہی نہیں بلکہ روزمرہ زندگی سے بھی سیکھیں۔جاپان اور پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ گزشتہ سال جاپان میں منعقد ہونے والی اوساکا-کانسائی ایکسپو 2025 کے دوران بامعنی تبادلے دیکھنے میں آئے، جہاں پاکستان پویلین نے بھرپور توجہ حاصل کی اور جاپانی نوجوانوں میں پاکستان کے لیے قربت کے جذبات کو فروغ دیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس ایکسپو کے دوران پاکستان کے کئی اعلی سطحی رہنماں، جن میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیراعلی پنجاب مریم نواز، اور وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان شامل ہیں، کے دوروں نے دوطرفہ تعلقات کو نئی توانائی بخشی۔ سفیر اکاماتسو نے جاپان-پاکستان تعلقات کے مستقبل کے لیے تین اہم ستونوں پر روشنی ڈالی، جن میں عوامی روابط کے ذریعے باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینا، اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانا، اور جاپانی کھانوں کا فروغ شامل ہیں۔ انہوں نے عوامی روابط کے حوالے سے کہا کہ پاکستان آمد کے بعد انہیں سب سے زیادہ متاثر کرنے والی بات پاکستانی عوام کی جانب سے جاپان کے لیے اعتماد اور محبت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعتماد 74 سالہ سفارتی تعلقات، جاپان کی ترقیاتی معاونت (ODA)، جاپانی کمپنیوں کی موجودگی اور جاپانی مصنوعات پر اعتماد کا نتیجہ ہے۔ سفیر نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ پاکستانی نوجوانوں میں جاپان کے حوالے سے دلچسپی تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور جاپانی زبان سیکھنے والے نوجوانوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، جو جاپان میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔
جاپان کی جانب سے پاکستانی طلبہ کے لیے اسکالرشپس 2026 کا اعلان
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
