Thursday, March 26, 2026
ہومبریکنگ نیوزپاکستان کے پاس ثالثی کے سوا کوئی راستہ ہی نہیں، فضل الرحمان

پاکستان کے پاس ثالثی کے سوا کوئی راستہ ہی نہیں، فضل الرحمان

ڈی آئی خان (آئی پی ایس )سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ثالثی کی باتیں ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس وقت ثالثی کی پوزیشن میں ہے؟ دراصل پاکستان کے پاس ثالثی کے سوا کوئی راستہ ہی بھی نہیں۔ڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا سے گفت گو میں انہوں ںے کہا کہ حکومتی رٹ کہیں نظر نہیں آرہی، ڈیرہ اسماعیل خان ، لکی مروت اور ٹانک وغیرہ بے امنی کا شکار ہیں، مشرقی اور مغربی سرحدوں پر حالات کشیدہ ہیں، ہم تجویز دے چکے ہیں کہ پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حالات پر قومی مشاورت کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جائے، بین الاقوامی اور قومی سطح پر قومی پالیسی واضح کی جائے، اسلامی دنیا میں ہر طرف جنگ ہے، عراق لیبیا کے بعد اب ایران کا کیا بنا ہے ہمیں اسلامک بلاک کی طرف جانا چاہییے۔انہوں نے کہا کہ ثالثی کی باتیں ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس وقت ثالثی کی پوزیشن میں ہے؟ پاکستان کے پاس ثالثی کے سوا کوئی راستہ ہی بھی نہیں، پاکستان کی کوئی فارن پالیسی نہیں ہے۔

مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ بھارت 78 سال سے کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کر رہا ہے، کشمیر میں بھارتی پالیسیوں پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں، آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد بھارت نے ڈیموگرافک تبدیلی کی کوشش کی، بھارت سمجھتا تھا کہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل ہو جائے گا، تمام اقدامات کے باوجود کشمیر کی صورتحال تبدیل نہ ہو سکی، کشمیر میں حالیہ انتخابات نے بھارتی دعوں پر سوال اٹھا دیے، نریندر مودی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید ہورہی ہے مودی پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا الزام ہے۔

فضل الرحمان نے کہا کہ بھارت میں نفرت کی سیاست کو عوامی سطح پر رد کیا جا رہا ہے، حالیہ انتخابات میں نفرت انگیز پالیسیوں کو نقصان اٹھانا پڑا، بھارت کو خطے میں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی، خطے میں کشیدگی کی بڑی وجہ بھارتی پالیسیاں ہیں،سارک اور آسیان غیر مثر ہوتے جا رہے ہیں، چین سمیت ایشیائی اتحاد کی طرف جانا وقت کی ضرورت ہے، خطے میں مثبت ماحول کے لیے نئی حکمت عملی اپنانا ہوگی، پاکستان کو اس حوالے سے فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ سربراہ جے یو آئی نے مزید کہا کہ ملک میں صرف ایک ادارے کی پالیسی کے مطابق اقدامات ہو رہے ہیں، حقیقی قومی پالیسی کی کمی خطے میں پاکستان کے موقف کو کمزور کر رہی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔