Thursday, March 26, 2026
ہومکالم وبلاگزکالمزثالث یا ضامن؟ امریکہ -ایران تنازع میں پاکستان کی حقیقت

ثالث یا ضامن؟ امریکہ -ایران تنازع میں پاکستان کی حقیقت

تحریر: راحیل حسن


امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی یا ممکنہ جنگ بندی کی خبروں کے ساتھ ہی پاکستان کے کردار پر بھی بحث تیز ہو گئی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ اگر پاکستان ثالثی کر رہا ہے تو شاید وہ کسی معاہدے کا ضامن (گارنٹر) بھی ہوگا یا پاکستان کو دونوں فریقین پر اثرانداز ہو کر کوئی فیصلہ کرنا ہو گا۔ اس بحث میں تھوڑا پروپیگنڈا بھی شامل ہے جس میں تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ پاکستان کے اپنے فیصلے باہر ہوتے ہیں اب پاکستان کیسے دنیا کے فیصلے کر رہا ہے۔ اس تمام تر صورتحال کی حقیقت کیا ہے اور اصل میں پاکستان کیا کردار کیا ہے آئیے سمجھتے ہیں۔

اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ “ثالث” کا اصل کردار کیا ہوتا ہے، اور موجودہ حالات میں پاکستان کیا کر سکتا ہے اور کیا نہیں۔ سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ ثالث کسی تنازعے کا جج نہیں ہوتا۔ وہ نہ فیصلہ صادر کرتا ہے اور نہ ہی کسی ایک فریق کے حق میں کھڑا ہوتا ہے۔ اس کا کام صرف یہ ہوتا ہے کہ دونوں مخالف فریقین کے درمیان رابطہ بحال کرے، بات چیت کے دروازے کھولے اور ایسے ماحول کی تشکیل میں مدد دے جہاں کوئی مشترکہ راستہ نکل سکے۔ دوسرے لفظوں میں، ثالث خود حل نہیں دیتا بلکہ حل تک پہنچنے کا راستہ آسان بناتا ہے۔

امریکہ اور ایران جیسے پیچیدہ اور حساس معاملے میں جسکو کچھ ماہرین ممکنہ ایٹمی جنگ یا تیسری عالمی جنگ قرار دے رہے ہیں ایسے میں ثالث کا کردار اور بھی حساس ہو جاتا ہے۔ یہاں براہِ راست مذاکرات اکثر مشکل ہوتے ہیں، اس لیے ایک ایسے ملک کی ضرورت پڑتی ہے جس پر دونوں کو کم از کم اتنا اعتماد ہو کہ وہ اس کے ذریعے اپنی بات پہنچا سکیں۔ اس کیس میں  پاکستان کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے دونوں ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں، پاکستان کی بیک وقت امریکہ کے ساتھ سکیورٹی، معیشت اور ماضی کی شراکت داری ہے تو دوسری طرف ایران کے ساتھ جغرافیائی قربت، سرحد اور مذہبی و علاقائی روابط قائم ہیں اور دونوں ملکوں کی قیادت کا پاکستان پر اعتماد بھی قائم ہے۔ پاکستان اسی جگہ پر ایک “پل” کا کردار ادا کر رہا ہے۔

عملی طور پر یہ عمل شروعات میں کھلے عام نہیں ہوتا بلکہ زیادہ تر “بیک ڈور ڈپلومیسی” کے ذریعے آگے بڑھتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان دونوں ممالک سے الگ الگ رابطہ رکھے ہوئے ہے اور انکے بیچ پیغام رسانی کا کام کر رہا ہے، ان کے خدشات، شرائط اور سرخ لکیریں (red lines) سمجھتا ہے، اور پھر محتاط انداز میں ایک فریق کا مؤقف دوسرے تک پہنچاتا ہے۔ اس دوران سب سے اہم چیز رازداری ہوتی ہے، کیونکہ ذرا سی معلومات کے افشا ہونے سے پورا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔

اس کے بعد اعتماد سازی کے چھوٹے چھوٹے اقدامات سامنے آتے ہیں۔ یہ ایسے اقدامات ہوتے ہیں جن میں خطرہ کم اور فائدہ زیادہ ہوتا ہے، جیسے بیان بازی میں نرمی، محدود سطح پر تعاون، یا کسی انسانی ہمدردی کے معاملے پر پیش رفت۔ یہ اقدامات اصل معاہدے کی بنیاد رکھتے ہیں۔ جب دونوں طرف کچھ لچک پیدا ہو جائے تو ثالث مشترکہ نکات تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک فریق سکیورٹی کے خدشات کم کرنا چاہتا ہے جبکہ دوسرا اقتصادی دباؤ میں کمی چاہتا ہے۔ یہاں ثالث ایک ایسا فریم ورک بنانے کی کوشش کرتا ہے جس میں “دینے اور لینے” (give and take) کا توازن ہو۔

اس کے بعد اکثر غیر رسمی ملاقاتوں کا مرحلہ آتا ہے، جو زیادہ تر خفیہ ہوتی ہیں اور محدود افراد تک رہتی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں ملاقاتوں کا یہ راونڈ ہوا ہے یا نہیں یہ معلومات دستیاب نہین ہے لیکن عالمی میڈیا کی خبروں کے مطابق اگلے ہفتے میں براہ راست مزاکرات اسلام آباد میں ہونے جا رہے ہیں، براہ راست ملاقاتوں کے کئی راونڈ ہو سکتے ہیں، بات چیت کے نتیجے میں ایک ابتدائی مسودہ تیار کیا جاتا ہے، جس میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ کون کیا کرے گا، کب کرے گا اور اس کی نگرانی کیسے ہوگی۔ آخرکار مذاکرات کسی نتیجے کے قریب پہنچ جاتے ہیں تو انہیں باضابطہ سفارتی عمل میں منتقل کیا جاتا ہے، جہاں معاہدہ کھلے عام سامنے آتا ہے اور عالمی سطح پر اس کی توثیق ہوتی ہے۔

یہاں ایک اور اہم غلط فہمی دور کرنا بہت ضروری ہے ثالث کا گارنٹر ہونا لازم نہیں ہوتا۔ گارنٹر وہ ہوتا ہے جو معاہدے پر عملدرآمد کی ذمہ داری بھی کسی حد تک اپنے اوپر لے۔ امریکہ اور ایران جیسے معاملات میں یہ کردار پاکستان اپنے ذمہ لینے کی بجائے کسی بڑی عالمی طاقت یا بین الاقوامی ادارے کو دے گا، کیونکہ اس کے لیے وسیع وسائل اور اثر و رسوخ درکار ہوتا ہے جو معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنا سکے، پاکستان کا کردار زیادہ تر سہولت کار (facilitator) کا ہی ہوگا، نہ کہ ضامن کا۔

مختصراً، پاکستان اس پورے عمل میں ایک خاموش لیکن اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ وہ نہ تو کسی پر فیصلہ مسلط کرے گا اور نہ ہی لازمی طور پر معاہدے کی ضمانت دے گا، بلکہ اس کی اصل طاقت اس بات میں ہوگی کہ وہ دو مخالف فریقین کو ایک میز پر لانے میں کامیاب ہو جائے۔ یہی ثالثی کی اصل روح ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔