مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں. امریکا کی جانب سے ایران کو جنگ بندی کے لیے 15 نکاتی منصوبہ پیش کیا گیا ہے، جبکہ ایران نے بھی اپنی چھ شرائط سامنے رکھ دی ہیں۔
امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کے مطابق امریکا کی جانب سے مذکورہ 15 نکاتی منصوبہ پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچایا گیا، جس نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش بھی کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس مجوزہ منصوبے میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سخت شرائط شامل ہیں۔
منصوبے کے تحت ایران کو اپنی تمام موجودہ جوہری صلاحیت ختم کرنا ہوگی اور یہ یقین دہانی کرانی ہوگی کہ وہ مستقبل میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران میں موجود نطنز، اصفہان اور فردو کے جوہری مراکز کو بند کرکے تباہ کیا جائے گا، جبکہ افزودہ یورینیم کو ایک طے شدہ مدت کے اندر جوہری توانائی کے عالمی ادارے ’انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی‘ کے حوالے کیا جائے گا۔
اس منصوبے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اپنے علاقائی اتحادی گروہوں کی مالی اور عسکری مدد بند کرے گا اور آبنائے ہرمز کو ہر قسم کی رکاوٹ سے آزاد رکھا جائے گا۔
ایران کے میزائل پروگرام کے بارے میں فیصلہ بعد میں کیا جائے گا، تاہم اس کی حدود اور تعداد کو محدود کرنے کی تجویز دی گئی ہے اور اسے صرف دفاعی مقاصد تک محدود رکھنے کی بات کی گئی ہے۔
اس کے بدلے میں ایران پر عائد تمام اقتصادی پابندیاں ختم کرنے، اقوام متحدہ کی ممکنہ پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے خطرے کو ختم کرنے اور ایران کو بوشہر میں پرامن جوہری منصوبہ مکمل کرنے کے لیے مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔
دوسری جانب ایران نے بھی جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی چھ اسٹریٹجک شرائط پیش کی ہیں۔
ایرانی ذرائع کے مطابق پہلی شرط یہ ہے کہ جنگ دوبارہ شروع نہ ہونے کی واضح ضمانت دی جائے۔
دوسری شرط کے تحت خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو بند کیا جائے، جبکہ تیسری شرط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حملہ آور قوتوں کو پیچھے ہٹایا جائے اور ایران کو ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔
ایران کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ تمام علاقائی محاذوں پر جنگ کا خاتمہ کیا جائے اور آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا قانونی نظام متعارف کرایا جائے۔
چھٹی شرط میں ایران مخالف میڈیا سرگرمیوں کے خلاف کارروائی اور ایسے عناصر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی انتظامیہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ سفارتی راستے بھی تلاش کر رہی ہے۔
