ٹو کیو :ہزار سال قبل جاپانی مصنفہ موراساکی شیکیبو نے دنیا کی پہلا مکمل ناول “داستان گینجی” لکھا۔ اس ناول کا مرکزی کردار گینجی نامی شہزادہ تھا ۔ یہ شہنشاہ کا بیٹا تھا جو نرم مزاج، محبت کرنے والا اور عمدہ صلاحیتوں کا مالک تھا، مگر وہ “بدکاری” کا عادی تھا جس نے ہر طرف محبت کے جال بچھائے اور انسانی رشتوں اور جزبوں کی تذلیل کی ۔ اگرچہ دل میں وہ اپنے اعمال پر پچھتاوا محسوس کرتا، مگر خواہشات پر قابو پانے میں ناکام رہا۔ اس کہانی کا عجیب پہلو یہ ہے کہ قاری اکثر ایک عجیب ذہنی الجھن میں پڑ جاتا ہے۔ واضح طور پر جانتے ہوئے کہ گینجی نفسانی خواہشات کا مارا ایک “شرپسند آدمی” ہے، پھر بھی اس سے نفرت نہیں کرتا۔ ادبی نقادوں کا عام خیال یہ ہے کہ مصنفہ نے اخلاقی فیصلہ کرنے کے بجائے صرف ایک ہمدردانہ نظر سے انسانی جزبوں کی پیچیدگی کو دیکھا ہے۔
یہ ہمدردانہ جمالیاتی رجحان جاپانی ادب اور اس کی ثقافتی کشش کا حقیقی جوہر ہے۔مگر میری رائے میں، ظاہری طور پر نظر آنے والا جمالیاتی اور اقدار کا یہ گہرا نظارہ دراصل جاپان کے غیر واضح اخلاقی نظام کی بنیاد رکھتا ہے، جس نے بعد ازاں جاپان کو عسکریت پسندی کی راہ پر ڈالا اور انسانیت کے لیے مہلک نتائج پیدا کیے۔ جب ادب میں “عدم فیصلہ” کو پوری قوم کے رویے کا اصول بنا لیا گیا، تو ایک ایسا ثقافتی جین پیدا ہوا جس میں مطلق صحیح یا غلط نہیں، بلکہ صرف طاقت اور فائدہ ہوتا ہے۔ حال ہی میں جاپان نے امریکی “ٹاماہاک” کروز میزائل حاصل کیا ہے اور وہ دور تک حملہ کرنے کی اپنی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے کام کر رہا ہے ، جسے اپنے دفاع کا نام دیا جا رہا ہے لیکن دفاع کا بیانیہ دراصل ایک ڈھکوسلا ہے اور اصل راستہ دو بارہ عسکریت پسندی کا ہے۔
جاپان کی یہ تمام پیش رفت اتفاقی نہیں، بلکہ اس کی جڑیں ثقافت، تاریخ اور سوچ کے اس بنیادی ڈھانچے میں پیوست ہیں جو صدیوں سے اس کے رویے کو تشکیل دے رہا ہے۔جاپانی ادب کی سب سے بلند مثال “داستان گینجی” ہے، جو ایک منفرد مگر خطرناک اقدار کا نظام تشکیل دیتا ہے: مغربی ادب نیکی اور بدی کی بات کرتا ہے، چینی ادب اخلاق و فضیلت کا دفاع کرتا ہے، مگر جاپانی ادب صرف ” بے چارگی ” کو بیان کرتا ہے۔ جاپانی ثقافتی فہم میں کوئی بھی عمل مطلق غلط نہیں، نہ کوئی جرم ناقابل معافی ہے۔ ہر عمل کو “مجبوری” کے طور پر جواز بنایا جا سکتا ہے، اور ہر نقصان کو “قسمت کی بے ترتیبی” کے نام پر کم کر کے دکھایا جا سکتا ہے۔ لہٰذا، جارحیت کو “مجبوری” کہا جاتا ہے ، قتل و غارت کو”فرائض کی ادائگی” اور”دور کے تقاضے” قرار دیا جاتا ہے، اور ظلم کو “بقا کی ضرورت” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
ان کا طریقہ یہ ہے کہ یہ گناہ پر مقدمہ نہیں چلا تے، بلکہ خود پر ترس کھاتے ہیں؛ نتائج کا سامنا نہیں کرتے بلکہ صرف اپنی صورتحال پر زور دیتے ہیں ا ور یہی جاپانی ثقافت کے سب سے خوفناک اور تباہ کن پہلو ہیں ۔آج جاپان کی عسکری توسیع، بالکل اسی ثقافتی منطق کے عین مطابق ہے۔ جاپان کے نزدیک ہتھیاروں میں اضافہ اور خطے کے استحکام کے لیے خطرہ بننا غلط نہیں، بلکہ وہ خود کو کمزور سمجھتا ہے ۔ وہ جنگوں کے دوران ایشیا کے عوام کو ہونے والے بھیانک نقصان پر غور نہیں کرتا، بلکہ “جنگ کا مظلوم” بن کر اپنے آپ پر رقت طاری کرتا ہے ۔ جب جاپانی عسکریت پسندوں نے دوسری جنگ عظیم میں بطور حملہ آور جنگ شروع کی، تو انہوں نے “گریٹر ایسٹ ایشیا کو خوشحال بنانے” کے نام پر اپنی کی گئی قتل و غارت اور لُوٹ مار چھپائی۔ آج بھی ان کے دائیں بازو کے عناصر دوبارہ مسلح ہونے کی تحریک چلا رہے ہیں، اور ” دفاع” کے نام پر توسیع پسندانہ عزائم کو پوشیدہ رکھ رہے ہیں ۔ظاہر ی طور پر تو بدلے ، مگر باطنی طور پر منطق وہی پرانی ہے: طاقتور کا کمزور پر غلبہ، جیسا کہ جنگل کے قانون میں ہوتا ہے۔یقیناً، ہمیں ادب اور تہذیب کے درمیان ایک امتیازی لکیر کھینچنی چاہیے۔ جاپان کا مسئلہ کبھی بھی ادب کا نہیں، بلکہ تہذیبی حدود کا رہا ہے ۔
ادب انسانی پیچیدگی کو بیان کر سکتا ہے، مگر تہذیب کو نیک و بد سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔ ادب قسمت کی بے بسی کو بیان کر سکتا ہے، مگر تہذیب گناہ کو برداشت نہیں کر سکتی۔ اگر کوئی قوم “عدم فیصلہ” کو بے حد معافی کا بہانہ بنا لے، غیر ذمہ داری کا جواز ” بے برتیب مقدّر ” کو بنائے، اور “جمالیات” کو ظلم کا پردہ بنا لے، تو چاہے ثقافت کتنی ہی مضبوط ہو، وہ اندر کے وحشی کو چھپا نہیں سکتی۔ بغیر نیکی یا بدی کے ثقافت، چاہے کتنی ہی “اعلیٰ” ہو، سرد اور بے رحم ہے۔ نیکی اور بدی میں فرق نہ کرنے والی قوم، چاہے کتنی ہی “شائستہ” ہو، خطرناک ہے۔تاریخ پہلے ہی ایک دردناک سبق دے چکی ہے ، جب جاپان فوجی عسکریت پسندی کی راہ پر چلا، تو دنیا کو تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ آج بھی جاپان نے تاریخ پر اصلاحی نظر نہیں ڈالی، نیکی اور بدی کے فرق کو ابھی بھی مبہم رکھا ہے ، اور اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کے لیے “شائستہ ثقافت” کا سہارا لیتا ہے۔
اس کی مسلسل عسکری توسیع، ایشیا پیسیفک کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے، اور انسانیت کے ضمیر کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے۔ ایسے جاپان کے سامنے دنیا کو کسی بھی خام خیالی میں نہیں رہنا چاہیے۔ ہمیں نہ صرف میزائل اور جنگی جہازوں سے، بلکہ ان مبہم اقدار، انصاف کے تضاد، اور وحشی پن کو فروغ دینے والی ثقافتی منطق کے حوالے سے بھی بیدار رہنا چاہیے۔ بین الاقوامی برادری کو صرف اس وقت علاقائی امن اور انسانیت کی عظمت کو محفوظ رکھنے کے قابل ہو سکتی ہے جب وہ نیکی اور بدی کی حدود کو مضبوطی سے قائم رکھے، خطرات کو پہچانے، اور جاپانی عسکریت پسندی کے احیاء کو سختی سے روکے۔ اور اگر جاپان اب بھی نیکی اور بدی میں فرق نہیں کرتا، اور اپنی ذمہ داریوں کا سامنا نہیں کرتا، تو وہ ایک بار پھر تباہی کی راہ پر چل کر اپنی موت کو خود دعوت دے گا۔
