پیرس:چین امریکہ اقتصادی و تجارتی مذاکرات کے لیے چینی وفد کے سربراہ اور چین کے نائب وزیر اعظم حہ لی فنگ نے پیرس میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور تجارتی نمائندےجیمیسن گرئیر کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی مذاکرات کئے۔ دونوں سربراہان مملکت کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق رائے کی رہنمائی میں، فریقین نے ٹیرف کے انتظامات، دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے نیز طے پانے والے اتفاق رائے کو برقرار رکھنے سمیت باہمی دلچسپی کے تجارتی و اقتصادی امور پر گہرائی کے ساتھ واضح اور تعمیری تبادلہ خیال کرکے کچھ نئے اتفاق رائے حاصل کئے اور مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
چینی نائب وزیر اعظم نے کہا کہ حال ہی میں، امریکہ نے 1974 کے تجارتی ایکٹ کے سیکشن 122 کے مطابق اپنے تمام تجارتی شراکت داروں پر 10 فیصد درآمدی سرچارج عائد کیا ہے، اور پھر چین کے خلاف سیکشن 301 کی تحقیقات، کارپوریٹ پابندیوں اور مارکیٹ تک رسائی کی پابندیوں سمیت متعدد منفی اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے یکطرفہ محصولات عائد کرنے کے خلاف چین کا موقف مستقل ہے۔
چین نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ یکطرفہ محصولات اور دیگر پابندیوں کو مکمل طور پر ختم کردے۔ چین اپنے جائز حقوق و مفادات کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔ فریقین نے باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے تعاون کے میکانزم کے قیام پر غور کرنے، چین-امریکہ اقتصادی اور تجارتی مشاورت کے میکانزم کو بروے کار لانے، بات چیت اور مواصلات کو مضبوط بنانے، اختلافات کو مناسب طریقے سے نمٹانے اور عملی تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا، تاکہ دوطرفہ اقتصادی و تجارتی تعلقات کی پائیدار، مستحکم اور مثبت ترقی کو فروغ دیا جائے۔
